ٹرمپ اور مودی تعلقات میں تناؤ، امریکی اخبار نے پسِ پردہ وجوہات بتادیں

(کشمیر ڈیجیٹل) امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ نوبیل امن انعام سے متعلق اختلافات اور دو طرفہ معاملات پر عدم اتفاق کو قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بات واشنگٹن اور نئی دہلی میں درجنوں اہم شخصیات کے انٹرویوز کی بنیاد پر سامنے آئی ہے۔ اخبار نے لکھا کہ صدر ٹرمپ نے 17 جون کو وزیراعظم مودی کو ٹیلیفون کیا اور اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے میں ان کا کردار نمایاں رہا۔

امریکی صدر نے مودی کو بتایا کہ پاکستان انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے والا ہے اور چاہتے تھے کہ مودی بھی اس عمل میں شامل ہوں، تاہم مودی نے صاف الفاظ میں کہا کہ جنگ بندی امریکی مداخلت کے بغیر براہ راست بھارت اور پاکستان نے طے کی تھی۔

اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے مودی کی یہ بات نظر انداز کی، لیکن مودی کی ہٹ دھرمی اور نوبیل امن انعام کے لیے نامزدگی سے گریز نے دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں کڑواہٹ پیدا کردی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تنازعہ امریکا اور بھارت کے تجارتی مذاکرات پر بھی اثرانداز ہوا اور خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں بھارت امریکا کے حریفوں بیجنگ اور ماسکو کے زیادہ قریب ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا دورہ بھارت منسوخ : پس پردہ کہانی کیا ہے؟

ادھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقاتیں کریں گے۔