انسان اور کائنات کا بگڑا ہوا توازن

تحریر: اعجاز شائق
کائنات کا نظام اربوں سالوں سے ایک خاص ترتیب اور توازن کے ساتھ چل رہا ہے۔ سورج، چاند، ستارے، دریا، پہاڑ، ہوائیں اور بارش—سب کچھ اپنے مقام اور اصول کے مطابق حرکت میں ہے۔ نہ کسی کو اپنی حد سے تجاوز کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی کسی کو دوسرے کے وجود سے خطرہ۔ لیکن اس کائناتی نظام میں صرف ایک مخلوق ایسی ہے جس نے اپنی فطرت کے برعکس بغاوت کی، اور وہ ہے “انسان”۔

انسان کو زمین پر اشرف المخلوقات کے طور پر بسایا گیا، مگر اس نے خود کو اس توازن کا حصہ سمجھنے کے بجائے اس کا مالک سمجھ لیا۔ اس کی فطرت میں تلاش اور جستجو ایک مثبت پہلو تھا، لیکن جب یہ تلاش لالچ میں بدلی تو زمین پر تباہی کا آغاز ہوا۔ انسان نے زمین کے خطے بانٹے، قبیلے بنائے، قومیں تشکیل دیں اور پھر ملک قائم کیے۔ یہ تقسیمیں امن کی بجائے نفرت اور جنگ کا ذریعہ بن گئیں۔

تاریخ پر نظر ڈالیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ لالچ اور قبضہ گیری ہی بڑے بڑے سانحات کی اصل وجہ تھی۔ رومن سلطنت سے لے کر منگولوں کی یلغار تک، جنگِ عظیم اول سے جنگِ عظیم دوم تک، ہر تباہی کے پیچھے طاقت اور زمین کی ہوس کارفرما تھی۔ برصغیر کی تقسیم بھی اسی انسانی فطرت کا مظہر ہے جہاں زمین کے نام پر خون کی ندیاں بہا دی گئیں۔

انسان نے محبت کے بجائے نفرت کا سودا کیا۔ مذہب، رنگ، زبان اور سرحدوں کے نام پر انسانیت کو توڑا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ زمین کسی سرحد کو نہیں مانتی۔ پہاڑ، دریا اور ہوائیں سب کے لیے یکساں ہیں۔ قدرتی نظام میں کہیں بھی قومیت یا ملکیت کا تصور نہیں۔ یہ سب انسان کے بنائے ہوئے جال ہیں جن میں وہ خود قید ہو چکا ہے۔

ماحولیات کے ماہرین بار بار خبردار کر چکے ہیں کہ انسان اپنی روش نہ بدلے تو زمین اس کے لیے ناقابلِ رہائش ہو جائے گی۔ گلوبل وارمنگ، جنگلات کی کٹائی، پانی کی کمی اور فضا کی آلودگی—یہ سب اسی بگاڑ کے ثبوت ہیں۔ لیکن افسوس کہ انسان اب بھی غلبہ چاہتا ہے، مزید زمین، مزید طاقت، مزید وسائل۔

حضرت علیؓ کا قول ہے: “دنیا کے جھگڑوں کی جڑ دو ہیں: لالچ اور تکبر۔” آج کے عالمی بحران اس قول کی زندہ تفسیر ہیں۔ ہر سپر پاور خود کو فرعون سمجھ کر اعلان کرتی ہے کہ وہ سب سے بڑی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ فرعون نیل کے پانیوں میں ڈوبا، نمرود کا غرور خاک ہوا، اور چنگیز و ہلاکو آج محض کہانیوں کے کردار ہیں۔

کائنات کا پیغام بالکل واضح ہے۔ جب سورج، چاند، درخت اور دریا اپنی اپنی حد میں رہ کر اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں تو انسان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی حدود پہچانے۔ ورنہ یہ زمین، جسے وہ اپنی جاگیر سمجھتا ہے، خود اس کے خلاف کھڑی ہو جائے گی۔ اور یہ وہ جنگ ہو گی جس میں انسان کے پاس جیتنے کا کوئی موقع نہیں۔

Scroll to Top