سینیٹ کمیٹی نے انوار حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے، کئی تجاویز پیش

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان نے آزادکشمیر میں این ڈی ایم اے کی ہدایات پر عمل نہ ہونے تشویش کا اظہار کیا ، کمیٹی نے نقصانات کے اعدادوشمار اور ای سی سی کی طرف سے فراہم کردہ 3ارب کی تقسیم سے متعلق بھی سوالات اٹھا دیئے۔

سرکاری نیوز ایجنسی(اے پی پی )کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان کا اجلاس جمعہ کو سینیٹر اسد قاسم کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، کمیٹی کو آزاد کشمیر میں مون سون کی وجہ سے ہونے والے نقصانات، امدادی کارروائیوں اور سیاحت سے متعلق چیلنجوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

ایس ڈی ایم اے آزاد کشمیر کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ 26 جون سے شروع ہونے والی بارشوں اور ان آفات کے نتیجے میں 28 جانیں ضائع ہوئیں، 2,100 سے زیادہ مکانوں کو نقصان پہنچا اور عوامی انفراسٹرکچر بشمول سڑکوں، پانی کی فراہمی کے نظام، سکولوں اور بجلی کے نیٹ ورک کی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔

کمیٹی کے چیئرمین نے اعداد و شمار کی درستگی کے بارے میں دریافت کیا اور کہا کہ نامکمل سروے اور کم رپورٹنگ عوام کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے۔

کمیٹی نے این ڈی ایم اے کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی اطلاعات پر عمل کرنے میں تیاری اور ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیلم جہلم پراجیکٹ کی بندش، منگلا ڈیم زمینوں سے متعلق کیسز پر سینیٹ کمیٹی برہم

چیئرمین اسد قاسم نے کہا کہ الرٹس کے باوجود سیاحوں کو کمزور علاقوں میں داخل ہونے پر پابندی نہیں لگائی گئی جو کہ مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین نے ابتدائی انتباہی نظام کی کمی کا ذکر کیا جو ان علاقوں کیلئے اشد ضروری ہے، کمیٹی چیئرمین نے آزادکشمیرمیں 100 کلومیٹر کے وقفوں پر ابتدائی وارننگ سسٹم لگانے کا مشورہ دیا۔

مالی معاملات پر چیئرمین نے ریلیف فنڈز کی مد میں ای سی سی کی طرف سے فراہم کردہ 3 ارب روپے کی شفافیت کے خدشات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کے مناسب استعمال کو یقینی بنانے کیلئے پارلیمنٹیرینز، عدلیہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایڈہاک نگرانی کا طریقہ کار ہونا چاہئے ۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ یونیورسل سروسز فنڈ کوریج کو بڑھانے کیلئے استعمال کیا جائے خاص طور پر سیاحتی علاقوں میں، جیسا کہ قانون کی ضرورت ہے۔

کمیٹی کو کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین (سی سی اے آر ) کے کردار اور دائرہ کار پر بھی بریفنگ دی گئی۔ سی سی اے آر کے چیف کمشنر نے کمیٹی کو افغان مہاجرین کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر جامع بحث کے لئے آئندہ اجلاس میں چیف سیکرٹری اور تمام متعلقہ صوبائی حکام کو مدعو کیا جائے گا۔

اجلاس میں سینیٹرز فیصل سلیم رحمان، عطاء الحق، ندیم احمد بھٹو، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Scroll to Top