سعودی

سوکن نے شوہر کی دوسری بیوی کو اپنا 80 فیصد جگر عطیہ کر دیا

طائف ، سعودی عرب (کشمیر ڈیجیٹل) ایک سعودی خاتون نے اپنے شوہر کی دوسری بیوی کو اپنا 80 فیصد جگر عطیہ کر دیا ، جس سے اس کے گردے فیل ہونے کی طویل جدوجہد بھی ختم ہو گئی ۔

سعودی گزٹ کی کی رپورٹ کے مطابق نورا سالم الشمری ، ماجد بلدہ الروقی کی پہلی بیوی  نے اپنی ساتھی بیوی ، تغرید عواد السعدی کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ، اس کے بعد ان کے طویل عرصے سے ڈائیلاسز کا مشاہدہ کیا گیا ۔

مقامی طور پر ان کے اس عمل کو بے لوث انسانی خدمت کے غیر معمولی مظاہرے کے طور پر عوام نے سراہا ہے ۔

الروقی نے اوکاز اخبار کو بتایا کہ طغرید برسوں سے گردے کی خرابی کا شکار تھی اور یہاں تک کہ علاج کے لیے ایک سال امریکہ میں گزارے لیکن صحت یابی میں کوئی فرق نہ پڑا ۔ تغرید کے مملکت میں واپس آنے کے بعد  نورا نے اسے اپنا ایک گردہ عطیہ کرنے کا منصوبہ بنایا ۔

گردے کا عطیہ خالصتاً خدا کے لیے:

انہوں نے کہا کہ  میں نے ام ترکی( نورا) کو اپنے پانچ بچوں کے سپرد کیا تھا کہ اگر مجھے سرجری کے دوران کچھ ہوا تو  لیکن میں حیران رہ گیا جب اس نے اعلان کیا کہ وہ اپنے جگر کا 80 فیصد حصہ تقرید کو عطیہ کرے گی ، خالصتاً خدا کی خاطر۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں 50 ہزار سال پرانے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے اور پتھر کے اوزار دریافت

طبی ٹیسٹوں نے ٹشو کی مطابقت کی تصدیق کی  اور ٹرانسپلانٹ سرجری کامیاب رہی ۔ الروقی نے اپنی پہلی بیوی کے زندگی بچانے والے تحفے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بنجر صحرا کو زندہ کرنے کے لیے بارش کی طرح آئی تھی ۔

یہ واقعہ سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا جہاں لوگوں نے اسے قربانی، ایثار اور انسانیت کی اعلیٰ مثال قرار دیا ہے ۔

Scroll to Top