امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آج پیش آنے والا واقعہ آزاد ی صحافت اور آزاد ی اظہار رائے پر ایک سنگین حملہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی اداروں کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی نے ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا، جس پر وہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے شکر گزار ہیں ۔
صدر ٹرمپ کے مطابق حملہ آور کے پاس ایک سے زائد ہتھیار موجود تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسے قابو کر لیا اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روک دیا۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوا، لیکن بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت وہ محفوظ رہا اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔
انہوں نے اس واقعے کو ایک انفرادی فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس کا کسی بین الاقوامی تنازع، خاص طور پر ایران جنگ، سے کوئی تعلق نہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:واشنگٹن واقعے سے صدمہ ہوا،خوشی ہوئی صدر ٹرمپ،خاتونِ اول خیریت سے ہیں : وزیر اعظم
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کے حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطرات بدستور موجود ہیں اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے ۔
ٹرمپ نے حملہ آور کے اقدام کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے قومی یکجہتی، برداشت اور اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا ۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں کی ہدایت پر تقریب کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا تاکہ شرکاء کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ” پر جاری بیان میں صدر نے تصدیق کی کہ حملہ آور کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے قریبی دوست ساتھ چھوڑنے لگے، سیکرٹری بحری فوج بھی مستعفی
یہ واقعہ واشنگٹن میں میڈیا نمائندگان کی سالانہ تقریب کے دوران پیش آیا، جس سے کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا تھا ۔




