(کشمیر ڈیجیٹل) آزادکشمیر بھر میں پولیس احتجاج کے دوران 11 جولائی 2025 کو مرکزی پولیس دفتر مظفرآباد کی جانب سے حکومت کو ارسال کیا گیا ایک اہم مراسلہ منظرِ عام پر آ گیا ہے۔ اس مراسلے میں پولیس اہلکاروں کو دیگر صوبوں کے مساوی الاونسز اور مراعات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو اب پولیس احتجاج کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 2016 سے 2022 تک مختلف ادوار میں وفاقی و دیگر صوبائی حکومتوں نے اپنے پولیس ملازمین کے لیے خصوصی الاونسز منظور کیے، تاہم آزادکشمیر پولیس کو اس سلسلے میں مسلسل نظرانداز کیا گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق آزادکشمیر پولیس کے ملازمین گزشتہ کئی سالوں سے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہیں حساس سیکیورٹی ڈیوٹی، وی وی آئی پی پروٹوکول، غیر معمولی موسمی حالات، دہشتگردی کے خطرات اور دیگر سخت ڈیوٹیوں کے باوجود وہ سہولیات نہیں دی جاتیں جو دیگر صوبوں کے پولیس ملازمین کو حاصل ہیں۔
مراسلے میں پیش کیے گئے اہم نکات درج ذیل ہیں:
اسپیشل الاونس:
آزادکشمیر پولیس کے اہلکاروں کو سال 2008 میں دیا جانے والا بنیادی اسکیل اب بھی برقرار ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں 2010 کے بعد پولیس اہلکاروں کو اسپیشل الاونس دیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں یہ الاونس 100 فیصد، پنجاب میں 50 فیصد، بلوچستان میں 40 فیصد جبکہ سندھ میں بھی پولیس اہلکاروں کو مخصوص الاؤنسز دیے جا رہے ہیں۔
رسک الاونس:
مراسلے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے لیے ریسک الاونس کی منظوری دی جائے، جیسا کہ دیگر صوبوں میں پولیس اہلکاروں کو خطرناک حالات میں ڈیوٹی سرانجام دینے پر دیا جاتا ہے۔
فریزڈ الاونس:
2008 کے بعد بھرتی ہونے والے پولیس ملازمین کو فریزڈ الاونس بھی تاحال نہیں دیا گیا، جبکہ دیگر محکموں میں یہ الاونس قابل عمل ہے۔
ڈینجر الاونس (DA) اور فیلڈ الاونس (FDA):
مراسلے میں ان الاونسز کے اطلاق پر بھی زور دیا گیا ہے جو سال 2012 سے دیگر صوبوں میں رائج ہیں، خاص طور پر فیلڈ ڈیوٹی کرنے والے اہلکاروں کے لیے۔
ٹی اے/ڈی اے:
پولیس ملازمین کو دی جانے والی سفری سہولیات بھی دیگر صوبوں کے برابر کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی جہلم ویلی کا اجلاس، 25 جولائی کو ورکرز کنونشن اور ممبرسازی مہم کا اعلان
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ دیگر صوبوں کی طرز پر الاونسز کی فراہمی سے نہ صرف پولیس ملازمین کی مالی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ ان کے حوصلے بھی بلند ہوں گے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں پولیس ملازمین احساس محرومی کا شکار ہو رہے ہیں۔




