لندن کے ہاؤس آف کامنز میں 15 جولائی کو جموں و کشمیر سیلف ڈیٹرمنیشن موومنٹ انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام آل پارٹیز کشمیر پارلیمانی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں برطانوی، کشمیری اور پاکستانی ارکانِ پارلیمنٹ، سیاسی و سماجی قائدین اور انسانی حقوق کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اس موقع پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی علمبردار ریحانہ علی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے 22 اپریل 2025 کے پہلگام سانحہ کو ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’26 معصوم کشمیریوں کا قتل عالمی ضمیر کے امتحان کی گھنٹی ہے‘‘ جبکہ 9 مئی کی پاک–بھارت جھڑپ کو ممکنہ ایٹمی تصادم کا پیش خیمہ قرار دیا۔
ریحانہ علی نے چھ عالمی مطالبات پیش کیے:
- پہلگام سانحہ کی بین الاقوامی آزاد تحقیقات
- اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری
- آر ایس ایس اور HSS جیسی انتہا پسند تنظیموں پر عالمی پابندی
- یورینیم چوری و ایٹمی بدانتظامی پر بھارت کا عالمی احتساب
- کشمیری سیاسی قیدیوں، شہداء اور جلا وطن کارکنوں کے لیے عالمی آواز
- آبی دہشت گردی پر اقوامِ متحدہ اور عالمی بینک کی فوری مداخلت
اُنہوں نے کہا کہ مودی حکومت ہندوتوا نظریے کی عملی تصویر بن چکی ہے جو اقلیتوں، خواتین اور انسانی آزادیوں کے لیے مہلک خطرہ ہے۔ ریحانہ علی نے خبردار کیا کہ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی تو کل کی خاموشی انسانیت کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل دے گی۔
17 جولائی 2025 کو ہاؤس آف لارڈز میں مسئلہ کشمیر پر دوبارہ بحث متوقع ہے، جہاں یہ نکات تفصیل سے اُٹھائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وادی لیپہ میں مسلسل تیسرے روز بارش، موسم خوشگوار فصلیں خوشحال
کانفرنس کے شرکاء نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کے ناتے بھارت کے خلاف ICJ اور ICC میں جنگی جرائم کا مقدمہ دائر کرے۔
“کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا وقت اب ہے — ورنہ بہت دیر ہو جائے گی!”




