ایئر انڈیا کے طیارے اے آئی 171 کے حادثے نے بھارتی ایوی ایشن سسٹم کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 274 افراد کی جان لینے والا یہ سانحہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایوی ایشن اداروں کی ناکامی، تربیت کی کمی اور حکومتی غفلت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق ایئر انڈیا کے پرواز نمبر اے آئی 171 کے حالیہ حادثے میں 274 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔ اس حادثے نے بھارتی ایوی ایشن نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
طیارے کا بلیک باکس حادثہ تحقیقاتی بیورو کی تحویل میں دے دیا گیا ہے تاہم تاحال کوئی واضح رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کی جا سکی۔ بھارتی تحقیقاتی بیورو حادثے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور وجوہات کے تعین میں ناکام رہا ہے۔ ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ حقائق کو چھپانا بھارتی ایوی ایشن سسٹم کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
مملکتی وزیر مرلی دھر موہول کے مطابق دونوں انجنوں کا بیک وقت فیل ہونا تکنیکی نگرانی میں سنگین غفلت کا مظہر ہے۔ اس سانحے میں پائلٹس کی ناقص تربیت، واضح ایس او پیز کا نہ ہونااور مینجمنٹ کی غفلت نے مرکزی کردار ادا کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایئر انڈیا کی مینجمنٹ متحرک اور مؤثر ہوتی تو 274 قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
بھارتی ایوی ایشن اتھارٹی کی مسلسل ناکامی اور حکومتی اداروں کی خاموشی نے ایک بار پھر عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔حادثے کے پس منظر میں حکومتی لاپرواہی، مودی سرکار کی غفلت اور ایوی ایشن اتھارٹی کی عدم دلچسپی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوات سانحہ افسوسناک قدرتی آفت تھی، ذمہ داروں کو سزا دی گئی: بیرسٹر سیف
ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اندرون ملک پروازوں کے دوران ہونے والے متعدد حادثات کے بعد عوام کا بھارتی ایئر لائنز پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ایئر انڈیا جیسے قومی ادارے کی جانب سے ایسے خطرناک حادثات کا ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارتی ایوی ایشن نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔




