جہاں دنیا کے کئی ممالک میں الیکٹرک گاڑیاں صرف امیروں کی پہنچ میں سمجھی جاتی ہیں، وہیں چین میں یہ ایک عام آدمی کی ضرورت بن چکی ہیں۔ گوانگژو کے ایک چارجنگ اسٹیشن پر کھڑے لُو یون فینگ کہتے ہیں، ’’میں الیکٹرک گاڑی چلاتا ہوں کیونکہ میں غریب ہوں‘‘۔ ان کے نزدیک ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے مقابلے میں یہ گاڑیاں سستی اور ماحول دوست ہیں۔
چین میں 2023 کے دوران فروخت ہونے والی تقریباً نصف گاڑیاں الیکٹرک تھیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں ای وی اب ایک عام حقیقت بن چکی ہے۔

یہ کامیابی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس کا آغاز اس صدی کے آغاز میں چینی قیادت نے مستقبل کی ٹیکنالوجی میں سبقت کے عزم سے کیا۔ 2007 میں وزیر تجارت و سائنس بننے والے جرمنی سے تربیت یافتہ انجینئر وان گانگ نے صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا کہ چین کو پیٹرول گاڑیوں کے بجائے الیکٹرک ٹیکنالوجی پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ اُس وقت سڑکوں پر زیادہ تر غیر ملکی برانڈز کا راج تھا۔
چینی حکومت نے 2010 کی دہائی سے ای وی صنعت کے فروغ کے لیے بھاری سبسڈی دینا شروع کی۔ امریکی تھنک ٹینک “سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز” کے مطابق 2009 سے 2023 کے آخر تک بیجنگ نے الیکٹرک گاڑیوں پر تقریباً 231 ارب ڈالر خرچ کیے۔
یہ سبسڈیز صرف کار ساز اداروں کو نہیں بلکہ صارفین، بجلی فراہم کرنے والوں اور بیٹری ساز اداروں تک دی گئیں۔ معروف کمپنی BYD نے موبائل بیٹریوں سے ای وی کی طرف رخ بدلا، جبکہ 2011 میں قائم ہونے والی کمپنی CATL آج دنیا میں ای وی بیٹریوں کا ایک تہائی حصہ تیار کرتی ہے۔

چین نے نہ صرف مینوفیکچرنگ بلکہ بیٹریوں کی تیاری کے لیے اہم سپلائی چین پر بھی غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ بیٹری کی تیاری ہو یا چارجنگ انفراسٹرکچر، چین نے ہر محاذ پر سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کے ذریعے سبقت حاصل کی۔ آج چین کے شہروں میں دنیا کا سب سے بڑا پبلک چارجنگ نیٹ ورک موجود ہے، جہاں ہر ڈرائیور چند منٹ میں قریبی اسٹیشن تک پہنچ سکتا ہے۔
چین کی EV پالیسی کو بعض مغربی ممالک غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں، لیکن چینی حکام کا اصرار ہے کہ ان کی پالیسی ہر کمپنی، چاہے وہ ملکی ہو یا غیر ملکی، کے لیے مساوی مواقع فراہم کرتی ہے۔ معروف چینی ای وی کمپنی XPeng کے صدر برائن گو کے مطابق، ’’حکومت نے مستقل مزاجی سے پالیسی سپورٹ، صارفین کی حوصلہ افزائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر کام کیا، جو اس شعبے کو دنیا میں سب سے زیادہ مسابقتی بناتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: جاپان کا کامیاب میزائل تجربہ، دفاعی پالیسی میں اہم پیش رفت
چین کی کامیابی صرف ٹیکنالوجی یا وسائل کی بات نہیں، بلکہ ایک طویل المدتی وژن، حکومتی عزم، اور مربوط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دنیا چین کو اس میدان میں پکڑ سکے گی؟
نوٹ: یہ معلومات بی بی سی کی ایک رپورٹ سے لی گئی ہیں۔




