آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر کے علاقے سماہنی گائیاں سے تعلق رکھنے والے ٹرک ڈرائیور راج محمد کے بیٹے محمد یٰسین کی کامیاب زندگی کی شاندار اور متاثر کن کہانی خبروں کی زینت بنی ۔
محمد یٰسین نے کشمیر ڈیجیٹل پر شائع ہونے والی ویڈیو رپورٹ پر ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے اور ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی خوشی اور جذبات کا اظہار بھی کیا۔
محمد یٰسین نے کہا کہ اُن کا تعلیمی سفر سماہنی گائیاں کے اسکول سے شروع ہوا۔ 1975ء میں اسکول میں داخلہ لیا اور اپنے اساتذہ کے بقول وہ ایک ذہین اور محنتی طالبعلم تھے۔ بعدازاں تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے میرپور ڈگری کالج تک پہنچے اور پھر 1992 میں اپنی کزن سے شادی کے بعد سپانسرڈ ویزے پر برطانیہ چلے گئے۔
برطانیہ میں انہوں نے کیٹری ورکر، دکانوں پر کام، صفائی اور ٹیکسی ڈرائیونگ جیسی مختلف نوکریاں کیں۔ اسی دوران وہ سیاسی طور پر متحرک ہوئے اور الیکشن مہم چلا کر برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ محمد یٰسین تین مرتبہ ممبر برطانوی پارلیمنٹ منتخب ہو چکے ہیں اور ان دنوں برطانوی وزیرِاعظم کی جانب سے “ٹریڈ انوائے ٹو پاکستان” کے منصب پر فائز ہیں تاکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
کشمیر ڈیجیٹل کے نمائندے نے محمد یٰسین کے آبائی علاقے اور اسکول کا دورہ کیا، جہاں ان کے اساتذہ اور رشتہ داروں سے خصوصی گفتگو کی۔ اساتذہ نے بتایا کہ محمد یٰسین آج بھی جب آزاد کشمیر آتے ہیں تو اپنے اسکول کا باقاعدگی سے دورہ کرتے ہیں۔
اہلِ علاقہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محمد یٰسین نے ممبر پارلیمنٹ بننے کے بعد بھی سادگی اور عاجزی کو نہیں چھوڑا، اور آج بھی اپنے آپ کو فخر سے “ٹرک ڈرائیور کا بیٹا” کہلواتے ہیں۔ اُن کے آبائی گھر میں بھی کسی قسم کی نمائش یا پروٹوکول دیکھنے کو نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: سہنسہ: جشنِ بہاراں میلہ میں بیل دوڑ کا شاندار مگر پرخطر منظر
چک ہریام بریج کی تعمیر میں بھی محمد یٰسین کا عملی کردار رہا ہے اور اب وہ میرپور ایئرپورٹ کے قیام کیلئے سرگرم ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے 20 برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر میر پورٹ ایئر پورٹ کے لیے آواز اٹھائی جو کہ اس علاقے کے لوگوں کا حق ہے جس پر وزیرِاعظم پاکستان نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے فزیبلٹی رپورٹ طلب کی ہے۔ انھوں نے وزیراعظم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اس مسلے پر فورا رسپونس کیا ،محمد یٰسین نے کہا کہ آزاد کشمیر کو بین الاقوامی روابط کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کے دروازے کھل سکیں اور روزگار و کاروبار کے مواقع پیدا ہوں۔
انہوں نے کشمیر ڈیجیٹل کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جو ویڈیو ان پر بنائی گئی، وہ نہایت متاثر کن ہے اور ان کے دل کو لگی۔ انہوں نے اساتذہ، اہلِ خانہ اور تمام خیرخواہوں کی دعاؤں اور سپورٹ پر بھی شکریہ ادا کیا اور دعاؤں کی درخواست کی۔




