مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ نظریاتی طور پر اپنا رخ مسجد سے مندر کی طرف نہیں کرسکتا،مسلم لیگ ن کو اگر قائم رکھنا ہے تو اس کو نظریات کو مضبوط کرنا ہو گا۔
اگر بیانیہ نہ ہوا تو ہم جیت بھی گئے تو یہی صورتحال ہوگی جو آج ہے، عزت اور غیرت کی بنیاد پر سیاست کی ہے اور آئندہ بھی یہی طرز عمل ہو گا، ہم نے عوام کے پاس اپنا منشور لیکر جانا ہے، موجودہ صورتحال میں ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
ون مین ون ووٹ کیلئے والد صاحب نے جدوجہد کی اس کے لیے 50ء میں گڑبڑھ ہوئی، جنرل یحییٰ خان ہمارا محسن 1970 کا آئین دیا،بعض باتیں کہنے سے اپنے ہی کپڑے اُتر جاتے ہیں، ڈی این اے کا مطالبہ کرنے والوں کا اپنا ڈی این اے مشکو ک ہے۔ آزادکشمیر میں ہر قسم کی تخریب کاری کا مقابلہ کریں گے۔۔
ریاست کے تشخص، عوامی حقوق اور نظام کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، کس سے گلہ کریں کہ اس حکومت اور موجودہ ہائبرڈ نظام کا کیوں حصہ بنے،صرف چار وزرا حصہ بنے باقی جگہوں پر اپوزیشن، وزیراعظم کہتے ہیں سیاسی شجرہ نسب بیان کرونگا جب میں نے کھولا تو پریشان ہوجائیں گے
وزیراعظم سے عرصہ دراز سے سلام دعا بھی نہیں، نظام کی کمزوری کی وجہ سے ہم بھی اس مشکل کا شکار ہوئے،مسلم لیگ نے اپنے قیام 2010 کے بعد ہی گیارہ نشستیں حاصل کیں،نوازشریف ہمارے قائد انہوں نے ہماری بھرپور سرپرستی کی، شاہد خاقان عباسی نے بھی بھرپور تعاون کیا،ہم نے آزادکشمیر کے لوگوں کو قدرتی وسائل کا مالک بنایا ہے،
یہاں نہ شہدا کو چھوڑا جارہا ہے نہ قومی ہیروز کی عزت کی جارہی ہے،موجودہ نظام کی کوئی تائید نہیں کرسکتا،یہاں لوگوں کو صرف ایم ایل اے بننے یا برقرار رہنے کی پڑی ہے نظام تباہ ہورہا ہے۔۔
اپنے والد سابق صدر مسلم کانفرنس راجہ محمد حیدر خان کی 59 ویں برسی کے موقع پر بلدیہ ہال میں حیدر میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدر خان کا کہناتھا کہ فوجیں نکالنے کا مطالبہ کرنے والے پہلے ہندوستان سے کہیں کہ وہ اپنی فوج نکالے،آزادکشمیر میں چھوٹی سی بات پر واویلا مچانے والوں کو کنن پوشپورہ کی مظلوم خواتین کیوں یاد نہیں رہتیں، پاکستان میں رہ کر کاروبار کرتے ہیں اور اسی کو برا بھلا کہتے ہیں، آزادکشمیر کو ختم کرنے کی تجویز تقسیم کشمیر کی سازش کا حصہ ہے، اس وقت عراق،شام،ایران اور دیگر ممالک میں دیکھ لیں کہ کیا صورت حال ہے
پاکستان کو ناراض کرکے یہ یہاں کیا کرنا چاہتے ہیں، نہ زبردستی کوئی خودمختاری لے سکتا ہے نہ پاکستان کے ساتھ الحاق ممکن ہے، صدر مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے،چھوڑیں گے نہیں۔۔
آپ لوگوں کی نظریاتی تربیت کریں،سیاسی کارکنان کی سوچ یہیں تک محدود ہو گئی ہے جب تک فیصلے خود نہیں کریں گے تنظیم مضبوط نہیں ہوسکتی، کارکنوں کے یہ گلے کہ مجھے یہ نہیں ملا وہ نہیں ملا، ہمیشہ رہتے ہیں، کیا ہم مقبوضہ کشمیر کے مظلوم لوگوں کو بھول گئے ہیں،جذباتی نعروں سے نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں،
مسلم لیگ ن نے 5 سال خدمت کی،کوئی پانچ سالہ دور بتائیں جس میں اتنی بڑی کامیابیاں ملی ہوں، راجہ محمد فاروق حیدر خان کا مزید کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں منصفانہ غیرجانبدار الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔
،چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کا ازسرنو تقرر آئینی تقاضا ہے، سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، عزت کے ساتھ زندہ رہنا ہے، عزت کے ساتھ سیاست کرینگے اور ان شاء اللہ عزت کے ساتھ حکومت بنائیں گے،شہدا کی تذلیل اور پاکستان کے خلاف باتیں کسی طور برداشت نہیں۔۔
حکومت کے ساتھ اختلاف رکھیں مگر ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈا قبول نہیں، شہدا ہمارے ماتھے کا جھومر، کارکنان الیکشن کی تیاری کریں،حقائق کو مدنظر رکھیں،ان کا کہنا تھا کہ باعزت زندہ رہنا چاہتا ہوں۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا آزادکشمیر قائم رہے گا ہمارا اصل دارالحکومت سری نگر،جموں ہے، سیز فائر لائن کو بین الاقوامی سرحد جب تک زندہ ہیں نہیں بننے دینگے، رب سے دعا ہے کہ عزت اور فخر سے زندہ رہیں۔۔
لوگ کہتے ہیں آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کا کیا کردار ہے جب مقبوضہ کشمیر میں شیخ عبداللہ اور بخشی غلام محمد حاوی ہو گئے تھے تب مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھتے، میں آج بھی کارکن کہلوانے پر فخر محسوس کرتا ہوں سب کو شامل کریں ماسوائے اُن کے جو قرآن پر حلف کے منحرف ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر شاہ غلام قادر کا کہنا تھاکہ کہ مرحوم کا سیاسی ریاستی کردار ہمارے لیے مشعل راہ ہے،دھڑوں کی سیاست کا قائل نہیں،۔
میں سابق صدر مسلم لیگ ن راجا فاروق حیدر خان کی ہر بات کی تائید کرتا ہوں،میرا سوال ہے جتنے والے آخر حکومت ہی کا حصہ کیوں بنے؟ قیادت کو تمام تحفظات سے باقاعدہ آگاہ کرتے ہیں اور کر رہے ہیں۔فاروق حیدر اپنی زمہ داریاں پوری طرح ادا کر رہے ہیں اس بات کا کارکنان کو یقین ہونا چاہئے۔۔
گروپ بندی کا شوشہ مسترد شدہ عناصر کا چھوڑا ہوا غبار ہے۔ایسے عناصر کو متنبہ کرتا ہوں اگر مسلم لیگ ن کی صفحوں میں چھپ کر کسی نے ایسی سازش کی تو اس کو عبرت کا نشان بنا کر رکھ دیں گے،جلد مسلم لیگ ن کی حکومت ریاست میں قائم ہو گی۔لالچ قبول کرتے تو کیا قیوم نیاز وزیراعظم بنتا؟دنیا کہ ہر نعمت لیگ کے افکار ونظریات پر قربان۔جدید دور کی ڈاکٹرائن کو مدنظر رکھیں۔اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار اور غیر سیاسی ازہان کو اقتدار دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔
آخر اس پا یہ لوگ کس سے آزادی لینا چاہتے ہیں کہ آئے روز کبھی رینجرز اور کبھی فوج بلا لیتے ہیں،ہمارے پاس ائین،سپریم کورٹ ہائی کورٹ موجود ہیں۔ریاست کے آئین کو بلڈوز کرنے والے تاریخ کے مجرم ہیں۔ہم نے قیادت کو ہر بات سے نہ صرف تحریری طور پر آگاہ کیا بلکہ زبانی بھی گاہے بگاہے آگاہ کرتے رہتے ہیں
کون الیکشن کمشنر ہو ہمیں اس سے غرض نہیں بس ریاست کے آئین کی حفاظت مقدم ہے۔پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ریاستی آئین کی حفاظت کرنے کے قابل ہی نہیں،ریاست کی حیثیت کو کسی صورت تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔۔ایسی ہر سازش کے سامنے ہم آہنی دیوار بن کر کردار ادا کریں گے۔
تقریب کی صدارت راجہ محمد حید رمیموریل کے صدر راجہ ممتاز خان نے کی جب کہ نظامت کے فرائض راجہ شاہد لطیف نے سرانجام دیئے، تقریب سے سابق وزیرحکومت ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی،نائب صدرمسلم لیگ ن محترمہ نورین عارف، سابق وزیرحکومت راجہ محمدیٰسین، سابق وزیرحکومت سید شوکت شاہ،مریم کشمیری صدرمسلم لیگ ن خواتین ونگ، میر محمد اشرف،چوہدری محمدنسیم،فیصل آزاد، ملک آفتاب، سردار فیصل، سرداروقار، اظہر حمید عباسی، ڈاکٹرعارف،چوہدری منظور،راجہ گلزار ایڈووکیٹ،راجہ عبدالغفور، سید افتخار حسین شاہ،ممبر مجلس عاملہ راجہ فرید خان،سید آزاد گیلانی،سابق ڈی جی لوکل گرنمنٹ محمد منیر عباسی،راجہ میر زمان ممبر مجلس عاملہ سابق ممبر ضلع کونسل، سردارمنظور، راجہ سعید انقلابی،سید نذیرحسین شاہ،مرزا آصف،مقبول عباسی ایڈووکیٹ،راجہ اختر قیوم،کے ڈی خان ایڈووکیٹ، سابق ایڈمنسٹریٹر ضلع جہلم ویلی فرید خان،سردار اقبال،راجہ منہاج ممتاز کہا کہ راجہ حیدر خان آزادکشمیر،گلگت اور مقبوضہ کشمیر کے دلوں کی دھڑکن تھے راجہ حیدر خان کی جلائی ہوئی شمع کو بجھنے نہیں دینگے۔
یوم تکریم شہداء کنونشن، قوم افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے،مولانا امتیاز صدیقی و مقررین




