مظفرآباد :سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری سید مہر علی نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ایک آئینی پوسٹ ہے، اور اس وقت تک اس پوسٹ کا خالی ہونا وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ناکامی یا ان کی نااہلی سمجھ لیں۔
کشمیر ڈیجیٹل کے ایک پروگرام میں سید مہر علی کا کہنا تھا کہ اس عہدےکو آئین کے مطابق اس وقت تک خالی نہیں رہنا چاہیے تھا اسے آئینی معاملات سے بدانتظامی (constitutional mishandling) کہہ لیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ادارے آئین اور قانون کے مطابق کام کریں تو آزاد کشمیر کے بہت سے معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اہل وکلا، بیوروکریٹس ہیں، بلکہ وکلا کمیونٹی میں بہت سے پروفیشنل لوگ موجود ہیں جو آئین و قانون کی گہری سمجھ رکھتے ہیں اور اس اہم ذمہ داری کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں ۔
سید مہر علی نے کہا کہ ہمارے پاس ایک واضح مثال جسٹس مصطفیٰ صاحب کی ہے، جن کےانڈر 2016 کا الیکشن منعقد ہوا تھا اور حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے ان الیکشن سے متعلق اایک حرف بھی نہیں اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام ذمہ داران کے لیے ایک پیغام ہے کہ وکلا کمیونٹی میں ایسے پروفیشنل لوگ موجود ہیں جو آئینی تقاضے بخوبی نبھا سکتے ہیں، اس لیے ایسے اہل افراد کا انتخاب کیا جائے تاکہ ادارے آئینی دائرے میں مؤثر طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکیں۔




