وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ پاک فوج لائن آف کنٹرول پر جانوں کے نذرانے دے کر آزاد کشمیر کے عوام کے جغرافیائی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے تاریخ کا نیا باب رقم کر رہی ہے۔
نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے بھارت کی جانب سے آزاد خطے میں بدامنی پھیلانے کی سازشوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر کے عوام اور پاکستان کے درمیان صدیوں پر محیط ثقافتی، سیاسی اور مذہبی رشتے کو کمزور کرنے کے درپے ہے، تاہم حکومت دشمن کے ناپاک عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی و سیاسی حقوق کی پامالی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ نام نہاد دانشور قابض اور محافظ فورسز میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فوج کی موجودگی آزاد خطے میں امن و سلامتی کی ضامن ہے۔ اگر پاک فوج سرحدوں پر تعینات نہ ہوتی تو آزاد کشمیر کا حال بھی دوسری جانب کی طرح ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو آزاد کشمیر حکومت اور ریاستِ پاکستان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے بھارتی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل بلوچستان کا راگ الاپتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر ایک لفظ نہیں کہتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کا بے لوث دوست اور ہمدرد ہے اور اگر بھارت نے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی پالیسی نہ چھوڑی تو کشمیری خاموش نہیں رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر کی غیر آئینی تقرری کا نوٹیفکیشن ناقابل قبول ہے، فیصل ممتاز راٹھور
انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ بھارت لائن آف کنٹرول کی اس پار بھی ٹارگٹ کلنگ کی کوشش کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے خبردار کیا کہ ریاست کا ہر شہری اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے متحد اور تیار ہے۔
حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت نے اخراجات میں کمی اور کروڑوں روپے کی بچت کے ذریعے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا۔ گزشتہ دو برسوں میں اربوں روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے گئے اور کرپشن کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کئی سالوں سے بند منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا گیا، ای ٹینڈرنگ متعارف کرائی گئی، انفراسٹرکچر بہتر بنایا گیا اور سیاحت کو فروغ دیا گیا۔ ان کے مطابق اس وقت آزاد کشمیر کے ہر ڈویژن میں دو سے تین جامعات موجود ہیں، اور ان کے اقتدار سنبھالنے کے وقت وفاقی گرانٹ بند تھی جسے دوبارہ بحال کیا گیا اور میڈیکل کالجز کو فعال بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے بلا سود قرض اسکیم شروع کی گئی، کمزور طبقوں کے لیے سوشل پروٹیکشن فنڈ قائم کیا گیا اور مافیاز کے خلاف کارروائی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی خاص بات یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود سب نے مل کر کام کیا اور ترقی کے عمل میں رکاوٹ نہیں آنے دی۔ بجٹ ایمانداری سے خرچ کیا گیا اور صحت و تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری کی فلاح کے لیے انقلابی اقدامات کیے جائیں گے۔




