مظفرآباد :جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے عوام دشمن اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روزِ اول سے بنیادی عوامی حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد کر رہی ہےمگر حکومت، بالخصوص وزیرِاعظم اور چند وزراءاپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کے لیے عوام کو اشتعال دلانے اور تحریک کو تشدد کی طرف دھکیلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
شعبہ نشر و اشاعت، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے فلیگ مارچ، پُرامن احتجاجی دھرنوں پر کریک ڈاؤن، کارکنان کے گھروں پر چھاپے، مظاہرین پر بلاجواز وحشیانہ تشدد، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور تحریکی ساتھیوں پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرنا حکومت کی مسلسل مذموم پالیسیوں کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحریری معاہدے کر کے ان کی پاسداری نہ کرنا اور اب رینجرز فورس کے قیام اور ناجائز مراعات میں اضافے جیسے اقدامات درحقیقت عوام، بالخصوص نوجوانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش ہےجس کا فطری ردِعمل سامنے آنا ناگزیر ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبر کور کمیٹی راجہ غلام مجتبیٰ کی تقریر کو جواز بنا کر حکومتی جبر کا راستہ اختیار کرنا انتہائی خطرناک نتائج کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کے متشدد ہتھکنڈے نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ ان سے حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔
یہ بھی پرھیں: ٹرمپ کے فیصلے سے سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق لانگ مارچ کے دوران تین نوجوانوں کی شہادت اور ریاست بھر میں پُرامن مظاہرین پر تشدد کے باوجود کمیٹی نے اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھی۔ کمیٹی نے عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ جبر و استبداد کا راستہ ترک کرے اور طے شدہ معاہدوں اور وعدوں پر فوری عمل درآمد یقینی بنائے، بصورت دیگر حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔




