حکومت کا ایل پی جی کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

حکومت نے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں کا موجودہ ریگولیٹری نظام ختم کر کے قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ کار متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت یکم نومبر 2026 سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ایل پی جی کی ماہانہ زیادہ سے زیادہ قیمتیں مقرر نہیں کرے گی، جبکہ قیمتوں کا تعین درآمدی لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

کابینہ سے حتمی منظوری کے لیے پیش کردہ مجوزہ پالیسی کے تحت سرکاری کمپنیاں، جن میں پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس ایس جی سی ایل پی جی لمیٹڈ، پارکو پرل گیس اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ شامل ہیں، بڑی مقدار میں ایل پی جی درآمد کریں گی اور ہر ماہ درآمدی لاگت کے مطابق بنیادی قیمت کا اعلان کریں گی۔

ایل پی جی کی قیمتوں کے فرق اور فلنگ پلانٹس کے اعداد و شمار:

اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جولائی 2026 کے دوران ایل پی جی فلنگ پلانٹس کی قیمتیں اوگرا کی مقررہ صارف قیمت سے 60 سے 79 روپے فی کلوگرام زیادہ رہیں، جبکہ مارچ میں یہ فرق 158 روپے تک پہنچ گیا۔

مجوزہ پالیسی کے تحت پروڈیوسر پرائس ڈفرینشل فنڈ قائم کیا جائے گا، جس میں درآمدی لاگت پر مبنی قیمت اور مقامی پروڈیوسرز کے لیے مقررہ قیمت کا فرق جمع ہوگا۔ اس رقم سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے معیار پر پورا اترنے والے اور کم آمدنی والے مستحق گھرانوں کو ایل پی جی پر سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

مقامی پیداوار کی تقسیم اور سپلائی کا طریقہ کار:

حکومت نے مقامی ایل پی جی پیداوار کا 10 فیصد حصہ سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ گلگت بلتستان، شمالی علاقوں اور دیگر دور دراز علاقوں میں فراہمی یقینی بنائی جا سکے، جبکہ باقی 90 فیصد پیداوار شفاف ماہانہ نیلامی کے ذریعے فروخت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کے نئے ایل پی جی قیمت فارمولے کے خلاف ایل پی جی مارکیٹرز کا فیصلہ!

پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ طلب تقریباً 24 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جو 2033 تک 41 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے۔ بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت آئندہ 3 سے 5 برسوں میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت کا تخمینہ لگا رہی ہے۔

ٹرمینل کے قیام اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف یکسر سختیاں:

سرمایہ کاری کے اسی مقصد کے لیے پورٹ قاسم پر 40 ہزار میٹرک ٹن گنجائش کا نیا ایل پی جی ٹرمینل قائم کرنے کی تجویز بھی پالیسی میں شامل کی گئی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے غیر قانونی درآمدات، غیر معیاری ایل پی جی اور غیر محفوظ منتقلی کے خلاف سخت اقدامات کی تیاری بھی کر لی ہے۔ 30 جون 2027 تک سرحدی داخلی راستوں پر معیار کی جانچ کے لیے لیبارٹریز قائم کرنے، غیر لائسنس یافتہ بوؤزرز کے خلاف کارروائی اور سلنڈرز کی کوالٹی بہتر بنانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

حکومت کے مطابق اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ایل پی جی کی تجارتی قیمتوں کو حقیقی درآمدی لاگت سے منسلک کرنا، مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا اور مستحق صارفین کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔