امریکی ریاست مشی گن کے اہم سینیٹ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
منگل کو ہونے والی ووٹنگ سے محض دو دن قبل ڈیموکریٹک پارٹی کی ایک خاتون رہنما نے اپنی ہی پارٹی کے امیدوار عبد الرحمن السید کے بجائے ریپبلکن امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مڈٹرم انتخابات میں ممکنہ شکست،ٹرمپ کا متبادل منصوبہ سامنے آ گیا
ڈیموکریٹک پارٹی کی موجودہ رکنِ کانگریس ہیلی اسٹیونز جو سینیٹ کی نامزدگی کی دوڑ میں عبد الرحمن السید سے ہار گئی تھیں نے اتوار کے روز ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے ساتھ ایک تقریب میں اچانک شرکت کر کے سب کو حیران کر دیا۔
اس پیشرفت کے فوراً بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ ’میں عبدل کی مہم کا حصہ نہیں ہوں۔
بحیثیت مشی گن کے باسی، ہماری پہچان نفرت نہیں ہے اور نہ ہی وہ کچھ ہے جو اس وقت ہمیں اپنے ڈیموکریٹک امیدوار کی جانب سے مل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں مائیک راجرز کی حمایت کر رہی ہوں۔
اعتدال پسند ڈیموکریٹ ہیلی اسٹیونز اور پارٹی کے بائیں بازو کی نمائندگی کرنے والے عبد الرحمن السيد کے درمیان حالیہ دنوں میں عوامی سطح پر شدید لفظی جنگ دیکھنے میں آئی ہے۔
ان کے درمیان یہ تازہ تنازع ایک بیرونی لبرل گروپ کی انتخابی مہم کے اس اشتہار پر شروع ہوا جس میں اشیائے خور و نوش کی بلند قیمتوں کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا گیا تھا تاہم عبد الرحمن السيد نے اس اشتہار پر تنقید کی تھی اور واضح کیا تھا کہ ان کا اس کے مندرجات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق منگل کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں مشی گن سینیٹ کا یہ مقابلہ انتہائی سخت ترین مقابلوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکہ وسط مدتی انتخابات، نتائج صدر ٹرمپ کی صدارت کے لیے اہم ترین قرار
یہ ان چند اہم بیٹل گراؤنڈمقابلوں میں سے ایک ہے جو حتمی طور پر امریکی سینیٹ کے کنٹرول کا فیصلہ کریں گے۔ اس نشست پر آخری بار کسی ریپبلکن نے 1994 میں کامیابی حاصل کی تھی۔
صدارتی انتخابات کے لحاظ سے بھی مشی گن ایک اہم سوئنگ اسٹیٹ ہے۔ اس ریاست سے 2020 میں جو بائیڈن جبکہ 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ جیتے تھے۔




