اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) سینیٹر شہادت اعوان نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے طویل احتجاج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کا غیر معمولی طور پر طویل ہونا کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس احتجاج کے پیچھے پاکستان مخالف عناصر سرگرم ہیں، جو مبینہ طور پر احتجاج کرنے والوں کو مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
سینیٹر شہادت اعوان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کو اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاہم احتجاج کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنا اور معاملات کو مسلسل الجھائے رکھنا قابلِ غور ہے۔
یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ اتنے طویل احتجاج کے پس پردہ کون سے عوامل اور قوتیں کارفرما ہیں اور اس کیلئے وسائل کہاں سے فراہم کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے آزاد کشمیر حکومت پر زور دیا کہ وہ معاملے کو مزید طول دینے کے بجائے سنجیدگی اور دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مسئلے کو جلد حل کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں سیاسی استحکام، امن و امان اور معمولاتِ زندگی کی بحالی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
شہادت اعوان نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی چاہیے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے سے پہلے عوامی تحفظات کو دور کرے اور اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرے۔
ان کے مطابق مذاکرات اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں جب تمام فریقین سنجیدگی کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھیں اور خطے میں سیاسی و انتظامی معاملات کو معمول پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
سینیٹر شہادت اعوان نے آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سے متعلق صورتحال پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر بھر میں انتخابات مکمل ہو چکے ہیں اور نئی حکومت بھی تشکیل پا چکی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایک حلقے میں تاحال انتخابات کا انعقاد نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل کی تکمیل کیلئے ضروری ہے کہ باقی ماندہ انتخابی مراحل بھی مکمل کئے جائیں تاکہ عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع مل سکے۔
انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی پر زور دیا کہ وہ خطے میں انتخابات کے انعقاد کیلئے راہ ہموار کرے، انتخابی عمل میں حصہ لے اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے اپنی نمائندگی یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو چاہیے کہ وہ اسمبلی کا حصہ بن کر عوامی مسائل، بنیادی حقوق اور خطے کے دیگر اہم معاملات پر ایوان کے اندر آواز بلند کرے۔
شہادت اعوان کا کہنا تھا کہ اسمبلی ایک ایسا جمہوری فورم ہے جہاں عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکتا ہے اور قانون سازی و پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے ان کے حل کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج اور محاذ آرائی کے بجائے انتخابی عمل اور پارلیمانی سیاست کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور عوامی مسائل حل کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اور تمام متعلقہ سیاسی و سماجی قوتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، تاکہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ہو اور جمہوری نظام مضبوط ہو سکے۔




