پاکستان میں بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں بینکنگ مالیاتی امور کی نگرانی کے نظام اور طریقہ کار کو مزید منظم اور بہتر بنانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اب بینکوں میں یومیہ 30 لاکھ روپے سے زائد کے نقد لین دین کی تمام معلومات اور رپورٹ فائنینشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو فراہم کرنا لازمی ہوگی۔ اس سے قبل بینکوں میں یومیہ نقد لین دین کی رپورٹنگ کے حوالے سے یہ حد 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، جسے اب بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کے اختیارات اور مشروط فیصلہ:
اس کے علاوہ ملک میں منی لانڈرنگ کے خاتمے اور اس کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو مزید اختیارات تفویض کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا ہے۔ تاہم صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو یہ اضافی اختیارات دینے کا حتمی فیصلہ طے شدہ ایس او پیز (Standard Operating Procedures) کی مکمل اور احسن طریقے سے تکمیل کے ساتھ مشروط رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 12 فیصد مقرر
ورچوئل اثاثہ جات کو انسداد منی لانڈرنگ نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ:
حکومت کی جانب سے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا ورچوئل اثاثہ جات کو بھی باضابطہ طور پر انسداد منی لانڈرنگ کے قائم کردہ نظام میں شامل کرنے کا اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے مالیاتی شفافیت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ جدید مالیاتی ذرائع کی نگرانی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو اختیارات کی تفویض:
ذرائع کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تمام ضروری اور قانونی اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔ ان اختیارات کی فراہمی کے بعد انسداد منی لانڈرنگ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو مزید قانونی تقویت حاصل ہو گی اور مالیاتی بے ضابطگیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔




