اسلام آباد:صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ، پرامن اور پائیدار حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔
یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء ہمیں اس المناک دن کی یاد دلاتا ہے جب بھارتی افواج سرینگر میں اتریں اور جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک طویل اور دردناک باب کا آغاز ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں کشمیر واک، پولیس نے ٹریفک ڈائیورژن پلان جاری کر دیا
یہ دن کشمیری عوام کی دیرینہ امنگوں اور حقِ خودارادیت کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ حق کے حصول کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کے حوالے سے ہماری بھرپور تائید کا اعادہ ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام نے تشدد، جبر اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے شدید مصائب برداشت کئے ہیں۔
کشمیریوں کی نسلوں نےانصاف، وقار اور آزادی کے حصول کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ نامساعد حالات کے باوجود ان کا حوصلہ اور عزم اپنے نصب العین سے پختہ وابستگی کا بین ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء سے اب تک بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کئی عشروں سےتنازعات، پابندیوں اور بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔
بنیادی آزادیوں پر مسلسل پابندیاں، فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ، گرفتاریاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس بدستور باعث تشویش ہیں اور عالمی برادری کی مسلسل توجہ کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی جب بھارت نے یکطرفہ طور پر جموں و کشمیر کی آئینی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یومِ سیاہ جموں و کشمیر محض یاد دہانی کا دن نہیں بلکہ یہ تنازعہ جموں و کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کا اس دیرینہ تنازعہ کے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں مطابق حل سے گہرا تعلق ہے ۔
صدر مملکت نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت کریں اور تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ، پرامن اور پائیدار حل کے لیے موثر کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ ہم ہر مناسب بین الاقوامی فورم پر کشمیری عوام کی آواز بلند اور ان کی جائز امنگوں کے حصول کے لیے وکالت کرتے رہیں گے ۔
یہ بھی پڑھیں:کشمیری عوام نے بھارتی جبری قبضہ کبھی قبول کیا نہ کبھی قبول کرینگے، وزیراعظم گیلانی
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس دن ہم کشمیری عوام کی بے شمار قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان انصاف، امن، وقار اور ان کے جائز حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر کے عوام اپنی امنگوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں گے اور تنازعہ جموں و کشمیر منصفانہ اور پرامن حل کی طرف پیش رفت کرے گا۔




