تبت میں 7.0 شدت کا شدید زلزلہ، 16 افراد جاں بحق ، درجنوں زخمی

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں 7.0 شدت کے زلزلے سے کم از کم 16 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق یہ زلزلہ گزشتہ شام کو آیا، جس کے بعد ریسکیو ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ زلزلے کے فوراً بعد مقامی امدادی ٹیموں کو ژیزانگ کے ناگچو شہر کے علاقے باقینگ کاؤنٹی روانہ کیا گیا۔ باقینگ کاؤنٹی فائر اینڈ ریسکیو برگیڈ کی ایک پیشگی ٹیم، جو آٹھ اہلکاروں اور دو گاڑیوں پر مشتمل تھی، نے ملبے میں پھنسے ایک زندہ بچ جانے والے شخص کو کامیابی سے نکال لیا۔

امدادی کارروائیاں اور نقصان کا جائزہ:

ژیزانگ فائر اینڈ ریسکیو کور نے زلزلہ متاثرہ علاقے میں 347 ریسکیو اہلکار، 82 فائر گاڑیاں اور 15 تلاش و ریسکیو کتے بھیجے ہیں۔ اس کے علاوہ امدادی عملیات کے لیے 4,200 سے زائد آلات اور 9,400 سے زیادہ لوجسٹیکل سپورٹ کی اشیاء بھی متاثرہ جگہ پر پہنچائی گئی ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے سنہوا کے مطابق حکام نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں اور آفت سے نمٹنے کے لیے امدادی کام جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لداخ کے 28مقامات کے نام بدلنے پر چین کی انڈیا کو وارننگ

چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) نے مقامی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ زخمیوں کی تعداد 46 ہو گئی ہے، جن میں سے 11 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ سی سی ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ زلزلے کے جھٹکوں کے دوران لوگ ریسٹورانٹس سے باہر کی طرف بھاگ رہے ہیں جبکہ سپر مارکیٹوں کی شیلفوں سے سامان نیچے گر رہا ہے۔

زلزلے کی شدت اور متاثرہ علاقے:

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق-شمال مشرق اور علاقائی دارالحکومت لہاسا سے 390 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک پہاڑی علاقے میں تھا۔ یہ زلزلہ زمین میں تقریباً 10 کلومیٹر کی کم گہرائی پر آیا۔ سنہوا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زلزلے کے باعث بجلی اور ٹیلی کام کی خدمات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

اس خطے میں زلزلے آنا ایک عام بات سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل جنوری 2025 میں تبت کے دیہی علاقے تنگری کاؤنٹی میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 126 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں، دسمبر 2023 میں شمال مغربی چین کے دور دراز صوبے گانسو میں آنے والے زلزلے نے کم از کم 127 افراد کی جان لے لی تھی۔

مزید پڑھیں: ذہین ترین ممالک میں فہرست چین اور جاپان بھی ٹاپ 3 میں شامل

ماضی کے خوفناک زلزلے:

دسمبر 2023 کا زلزلہ سال 2014 کے بعد چین کا سب سے مہلک زلزلہ تھا، جب جنوب مغربی صوبے یونان میں 600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے پہلے سال 2008 میں صوبہ سیچوان میں آنے والے ایک انتہائی شدہد زلزلے میں تقریباً 90,000 افراد جاں بحق یا لاپتہ ہو گئے تھے، جن میں تقریباً 5,000 اسکول کے بچے بھی شامل تھے۔