لاہور(کشمیر ڈیجیٹل)لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے ایسے باشندے جو پاکستان میں رہائش پذیر ہیں انہیں محض آزاد کشمیر کا مستقل باشندہ ہونے کی بنیاد پر پاکستان کی فیملی کورٹس سے رجوع کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ایسے افراد اپنی ریاستی شناخت یعنی اسٹیٹ سبجیکٹ کی حیثیت برقرار رکھنے کے ساتھ پاکستان کی سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی دفعہ 14-B کے تحت پاکستانی شہریت کے قانونی مستحق ہیں بشرطیکہ متعلقہ قانونی شرائط پوری ہوں۔
آزادکشمیر کے شہریوں پر پاکستانی عدالتی قوانین لاگو ہوسکتے ہیں یا نہیں اس سے قبل فیملی کورٹ میں آزادکشمیر کے شہریوں کے حوالے سے خواتین نے مقدمات دائر کر رکھے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ مقدمات میں درخواست گزار خواتین نے فیملی کورٹ راولپنڈی میں خلع، نان و نفقہ اور حق مہر کی وصولی کے دعوے دائرکررکھے ہیں ۔
مخالف فریق نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ فریقین مستقل طور پر آزاد کشمیر کے رہائشی ہیں اور ان کی شادیاں بھی آزاد کشمیر میں ہوئی تھیں، اس لئے فیملی کورٹ راولپنڈی میں ان مقدمات کی سماعت کا اختیار نہیں۔
ماتحت اپیلیٹ عدالتوں نے اسی بنیاد پر درخواست گزاروں کے حق میں پہلے سے جاری احکامات کو تبدیل کرتے ہوئے ان کے دعووں کی واپسی کا حکم دیا جسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
عدالتِ عالیہ نے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی دفعہ 14-B، آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974، نادرا آرڈیننس 2000، ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 اور فیملی کورٹس رولز 1965 کی متعلقہ دفعات پر غور کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 14-B کے تحت جموں و کشمیر کا ایسا باشندہ جو پاکستان میں رہائش اختیار کرنے کی نیت سے منتقل ہوا ہو، اپنی ریاستی شناخت برقرار رکھتے ہوئے پاکستانی شہری تصور کیا جا سکتا ہے۔
اس دفعہ کی تشریح کو صرف ان افراد تک محدود نہیں کیا جا سکتا جو 1973 میں اس قانون کے نفاذ سے پہلے پاکستان منتقل ہوئے تھے اور نہ ہی آزاد جموں و کشمیر کے باشندوں کو اس کے دائرے سے محض اس وجہ سے خارج کیا جا سکتا ہے کہ وہ آزاد علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ نادرا کی جانب سے جاری کردہ درست قومی شناختی کارڈ اور پاکستان میں رہائش کے شواہد اس قانونی حیثیت کے تعین میں اہمیت رکھتے ہیں۔
تاہم، شہریت کا حتمی تعین متعلقہ قانون کے تحت ہی ہوگا، کیونکہ نادرا آرڈیننس کے تحت شناختی کارڈ جاری کرنے کا اختیار بذاتِ خود شہریت کے ہر تنازعے کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
عدالت کے مطابق، آزاد کشمیر کے باشندے پاکستان میں رہائش پذیر ہونے کے باوجود اپنی ریاستی شناخت برقرار رکھ سکتے ہیں، اور انہیں محض اس شناخت کی بنیاد پر پاکستان کے عدالتی نظام تک رسائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں اس امر کو بھی اہمیت دی گئی کہ اگر بیوی اور بچے راولپنڈی میں معمول کے مطابق رہائش پذیر ہوں، ان کی روزمرہ زندگی وہیں قائم ہو اور متعلقہ تنازعے کا حقیقی تعلق بھی اسی علاقے سے ہو، تو علاقائی دائرۂ اختیار کا تعین کرتے وقت ان حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
فیملی کورٹس رولز 1965 کے رول 6 کے تحت بیوی کو بعض حالات میں اس مقام پر دعویٰ دائر کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے جہاں وہ معمول کے مطابق رہائش پذیر ہو۔
چنانچہ صرف نکاح کی جگہ یا مستقل پتے کی بنیاد پر فیملی کورٹ کے دائرۂ اختیار کو ختم نہیں کیا جا سکتا؛ متعلقہ قانون اور مقدمے کے حقائق کو مجموعی طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے دونوں رٹ پٹیشنز منظور کرتے ہوئے ماتحت اپیلیٹ عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے اور مقدمات دوبارہ متعلقہ فیملی کورٹس کو بھجوا دیئے تاکہ وہ فریقین کو منصفانہ سماعت کا موقع فراہم کرکے مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق میرٹ پر کریں۔
قانونی اہمیت:
یہ فیصلہ آزاد جموں و کشمیر کے ان باشندوں کیلئے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے جو پاکستان میں رہائش پذیر ہیں اور خاندانی تنازعات میں پاکستانی عدالتوں سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔
کیس:
سائرہ بی بی وغیرہ بنام محمد حفیظ وغیرہ رٹ پٹیشن نمبر: 2705/2021 معہ منسلک رٹ پٹیشن نمبر 318/2025کے تحت عدالت نے آزادکشمیر کے شہریوں کو پاکستانی شہریت اور یہاں پر لاگو قوانین کا پابند قرار دیدیا ہے ۔




