پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان’’ بدر معاہدہ ‘‘کے مقاصد کیا ہیں؟

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے بدھ کو ایک دفاعی معاہدے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق دفاعی تعاون اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے اس معاہدے کو ’بدر میمونڈم‘ نام دیا گیا ہے، جس پر بدھ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دستخط کیے گئے۔

ترکیہ کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف ، ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر، قطر کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمان بن حسن الثانی اور انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع یوسف جوہاری شامل تھے۔

تقریب میں ترکیہ کے ادارہ دفاعی صنعت کے سربراہ ہالوک گورگن نے بھی شرکت کی۔

ترک وزارتِ دفاع کے مطابق بدر( مکمل چاند)نامی اس معاہدے کے تحت چاروں ممالک کے درمیان فوجی سازوسامان کی تیاری میں تعاون، عسکری صلاحیتوں میں اضافہ، فوجی تربیت، تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔اس معاہدے پر دستخط ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے کے دیگر ممالک بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر اہم معاہدہ طے پا گیا

ترک نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ یادداشتِ مفاہمت دستخط کنندہ ممالک کے لیے نمایاں معاشی اہمیت بھی رکھتی ہے،اس کے ذریعے وہ اپنی عسکری پیداواری صلاحیتوں کو یکجا کر سکتے ہیں، باہمی انضمام کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اپنی دفاعی صنعتوں کو اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ اتحادی اور دوست ممالک کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔

  معاہدے سے شریک ممالک کے درمیان عسکری تعاون میں وسعت آنے، دفاعی صنعت میں تعلقات گہرے ہونے اور سلامتی، استحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کثیر الجہتی اشتراک کو مضبوطی ملنے کی توقع ہے۔

یا درہےکہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کے نام سے ایک دفاعی موجود ہے جو 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔

ترک حکومت نے اس معاہدے کی باقاعدہ توثیق کا بِل بھی پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے جس کے بعد اس معاہدے کا مسودہ بھی سامنے آگیا ہے۔