سینیٹ ممبران کیلئے لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ ترمیمی بل منظور، طلال چوہدری کی مخالفت

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سینیٹ نے سینیٹر عبدالقادر کا پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل منظور کر لیا ۔ ترمیمی بل میں کہا گیا کہ ارکان سینیٹ کو بھی ارکان اسمبلی کی طرح لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دیا جائے۔

 سینیٹ میں سینیٹر فوزیہ ارشد کا فوجداری قوانین ترمیمی بل بھی منظور کرلیا گیا۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے پاسپورٹ ایکٹ 2026 میں ترمیمی بل کی مخالفت کر دی۔

سینیٹ اجلاس میں عبدالقادر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کےارکان کوبلیو پاسپورٹ ملتا ہے چاہے وہ ایک سال رکن رہے۔

 سینیٹ کےارکان کو بلیو پاسپورٹ نہیں ملتا چاہے وہ 5سال یہاں رہے،بیوروکریٹس کو بلیو پاسپورٹ ملتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عوامی امور میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی،ڈپٹی کمشنر عفت اعظم

طلال چوہدری نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پاکستان کی سلامتی اوروقار کے بارے میں سوچنا ہوگا پہلے ہی بلیو پاسپورٹ 75ہزار تھے 

اب کم کر کے 45 ہزار پر لائے ہیں، اس بل کوموخر کیاجائے ابھی وزارت داخلہ اس پر کام کر رہی ہے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ سابق سیکرٹری اوران کے خاندان کے بلیو پاسپورٹ منسوخ کئے جائیں، پارلیمنٹرینز کے بلیو پاسپورٹ نہیں بن رہے،سیکرٹریزکی فیملی کے پاس کیوں ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کر کے 45 ہزار کر دی گئی،یورپی ممالک اور کینیڈا کی جانب سے آفیشل پاسپورٹس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

تقریباً 30 ہزارغیر ضروری اور غیر فعال بلیو پاسپورٹس منسوخ کر دیئے گئے،پاسپورٹ کی سیکیورٹی اور وقار پاکستان کے لوگوں کے وقار کا معاملہ ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاسپورٹ بل پروزارت داخلہ کے ساتھ معاملات طے کر کے بل کو لے آئیں۔

 طلال چوہدری نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر اس بات پر متفق ہوئے کہ فی الحال اس بل کو مؤخر کر دیں، گریڈ 22 کے سیکرٹری کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ ملنےکی مخالفت کرتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخواپولیس کی تنخواہوں میں اضافہ، 120 فیصد الاؤنسز کی تجویز

انہوں نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ براہ راست ریٹنگ، اینڈ ریکنگ پر اثر ڈالتا ہے، پتہ چلےکہ بلیو پاسپورٹ کی تعداد ہزاروں میں ہےتو دوسرے ممالک فری ویزا دینے سے کتراتےہیں،

 وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ارکان سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن ان کی فیملی سے متعلق خدشات ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کی تعداد ریگولیٹڈ ہونی چاہیے، بلیو پاسپورٹ آفیشل بزنس کیلئے استعمال ہوتا ہے بچوں کو اپنے کیریئر خود بنانےدیں،

انہوں نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ سےعزت نہیں بنتی ، سابق بیورو کریٹس کے بچوں کے بلیو پاسپورٹ کی اجازت کے معاملے پر دوبارہ دیکھیں گے۔

مسلم لیگ(ن)کے سینیٹر عابدشیرعلی نے کہا کہ جنہوں نے قانون کے ساتھ غداری کی انہیں تازندگی بلیو پاسپورٹ کی اجازت دی ہوئی ہے۔

وزارت داخلہ سے این او سی کی ضرورت ہے یہ اس سے پہلے نہیں تھی کیا سینیٹ ارکان کی یہ اوقات رہ گئی ہے۔ وزارت داخلہ سے این اوسی درکارہے۔

 یہ ہمارا استحقاق مجروح کرنےکےمترادف ہے، میں اس پر اپنی تحریک استحقاق پیش بھی کروں گا،یہ معاملہ داخلہ کمیٹی میں بھی اٹھایا ہے،آپ یہاں پررولنگ دیں۔

سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ جوریٹائرڈ ہوچکے ہیں سیکرٹری ان کے بلیو پاسپورٹ منسوخ کریں یا پھرہم سب کو بلیوپاسپورٹ دیئےجائیں۔