سماہنی (کشمیر ڈیجیٹل) سپیکر آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کے عوام نظریاتی، فکری اور عملی طور پر پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔
مسلح افواج پاکستان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ایل او سی کے عوام نے وطن کے دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، حکومت آزادکشمیر عوامی خدمت، تعمیر و ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے جامع پلان پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
کمشنرقیصراورنگزیب کی ریٹائرمنٹ کے حوالہ سے منعقدہ ایک تقریب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر اسمبلی نے کہا کہ سیز فائر لائن کے قریب آباد بہادر عوام نے وطن کے دفاع اور اپنی بقا کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
ان کا عزم، حوصلہ اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کا جذبہ قابلِ تحسین ۔سماہنی، بنڈالہ اور کہاولیاں ایک خوبصورت وادی کا حصہ ہیں اور ان علاقوں کے لوگوں کے ساتھ ان کے خاندان کا دیرینہ اور قلبی تعلق ہے۔
وہ اپنے مرحوم والد گرامی کے ہمراہ ماضی میں بھی ان علاقوں کا دورہ کرتے رہے ہیں۔چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ ایل او سی کے مکینوں نے ہجرت، مشکلات اور آزمائشوں کے ایسے کٹھن مراحل دیکھے ہیں
جن کی اذیت کا اندازہ صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے خود یہ کرب برداشت کیا ہو۔
ان بہادر عوام کی قربانیوں اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ان کی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوامی خدمت اور تعمیر و ترقی کے عمل کو بلا تفریق آگے بڑھائے گی اور عوامی مسائل حل کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے گا اور اس سلسلے میں جامع منصوبہ بندی مکمل کرلی گئی ہے۔
80 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی تیاری مکمل ہے۔ سپیکر اسمبلی نے بتایا کہ وزیراعظم آزادکشمیر کے ہمراہ عوامی خدمت اور تعمیر و ترقی کیلئے جامع پلان آف ایکشن مرتب کیا گیا جس کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔
حکومت کے سو روزہ تعمیر و ترقی پروگرام کے تحت صحت، تعلیم، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے، سیاحت، صاف ستھرا کشمیر، یونیورسٹی طلبہ کیلئے وظائف، بڑے ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہوچکی ہے۔
کیتھ لیب کے قیام، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی بہتری سمیت صنعت، بجلی، زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں مختلف ترقیاتی اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس جامع ترقیاتی پروگرام کو تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا، جس کے لیے حکومت پاکستان سے تقریباً 80 ارب روپے درکار ہوں گے۔
بعض فنڈز موصول ہوچکے ہیں، جبکہ وزیراعظم پاکستان جلد آزادکشمیر کا دورہ کریں گے اور اس ترقیاتی پروگرام کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
ایل او سی کے 13 حلقوں کیلئے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا اعلان
چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ سیز فائر لائن سے ملحقہ 13 حلقوں کیلئے خصوصی ترقیاتی پیکیج متعارف کروانے کی تیاری بھی حتمی مراحل میں ہے۔
اس پیکیج کے تحت ایل او سی کے علاقوں میں تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات ان کی دہلیز پر میسر آسکیں۔
انہوں نے کہا کہ علاقے کی تعمیر و ترقی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے گی۔
سماہنی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سپیکر اسمبلی نے کہا کہ ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری محمد رزاق جلد وزیر بنیں گے، جس سے سماہنی میں ترقیاتی سرگرمیوں کے نئے دور کے آغاز کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اداروں میں اصلاحات کے ذریعے عوامی خدمت کے نظام کو مزید مؤثر بنائے گی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔نئی نسل کی تربیت اجتماعی ذمہ داری ہے
سپیکر اسمبلی نے کہا کہ موجودہ دور میں خدمتِ خلق کے لیے پہلے سے زیادہ محنت، اخلاص اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں سیاسی کارکنوں کی کمی محسوس ہورہی ہے۔
نئی نسل کی بہتر تربیت والدین، علمائے کرام، اساتذہ اور سیاسی رہنماؤں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور کردار سازی سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر سپیکر اسمبلی نے راجہ غلام ربانی کی رہائش گاہ پر میڈیا سے بھی گفتگو کی اور ترقیاتی منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کارکنان اور شرکاء سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور باہمی خوشگوار ماحول میں مہمانوں کو رخصت کیا۔
سپیکر اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے ایل او سی کے قریب کھڑے ہوکر اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزادکشمیر کے عوام پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی پر مکمل طور پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ آزادکشمیر کے عوام کا تعلق مضبوط، اٹوٹ اور ناقابلِ تسخیر ہے، جس میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا۔




