فرانس کے بعد البانیہ میں مظاہرے پھوٹ پڑے، وزیراعظم کا مستعفی ہونے سے انکار

فرانس کے بعد البانیہ میں حکومت مخالف مظاہروں میں تیزی آگئی جہاں مظاہرین وزیر اعظم ایڈی راما سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق منگل سے شروع ہونے والے ان پرتشدد مظاہروں نے دارالحکومت ترانا کو ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں ہزاروں مظاہرین یونیورسٹیوں کی ابتر حالت، بھاری ٹیوشن فیس اور کرپشن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور وزیر اعظم سے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حجاب پر پابندی، آذربائیجان میں طلبہ کا شدید احتجاج،ترکیہ میں بھی مظاہرہ

اتوار کی دوپہر ایک بار پھر سیکڑوں مظاہرین وزارتِ تعلیم کے باہر جمع ہوئے اور ’راما، استعفیٰ دو‘ کے نعرے لگائے۔ اس دوران پولیس کے جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے بعد ہجوم کو پیچھے دھکیلنے کے لیے پولیس کو واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق شہر کے وسط میں دکانوں اور کاروباری اداروں نے اپنے دروازوں اور کھڑکیوں پر دھاتی شٹر لگادیے ہیں جبکہ میونسپل ورکرز نے سڑکوں سے پتھر (paving stones) ہٹا دئیے ہیں تاکہ مظاہرین انہیں پولیس پر حملے کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔

وزیر اعظم ایڈی راما نے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے ان مظاہروں کو ’’کسی بیرونی ہاتھ کی کارروائی‘‘ قرار دیا ہے۔

 دارالحکومت ترانا میں ہفتے کے روز بدترین صورتحال رہی جہاں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، پیٹرول بم، دھاتی اشیا اور پٹاخے پھینکے۔ رات گئے تک جاری رہنے والے ان مظاہروں میں عدالت، بینکوں اور ایک ڈاک خانے سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگا دی گئی یا شدید نقصان پہنچایا گیا۔ کشیدگی میں اضافے کے پیشِ نظر  پولیس نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں فائر کیں۔

وزارتِ صحت کی جانب سے اتوار کی صبح جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق، تازہ ترین جھڑپوں میں 65 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 37 پولیس اہلکار شامل ہیں، جبکہ 12 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ منگل سے اب تک ان جھڑپوں میں 169 پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 272 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

البانیہ کے قریبی اتحادی امریکا نے ہفتے کی رات دیر گئے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ترانا میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے ’تمام فریقین سے تحمل‘ کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انڈیا : ہزاروں مظاہرین کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے لیے سپریم کورٹ تک مارچ

واضح رہے کہ حالیہ پرتشدد مظاہرے ملک میں مہینوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کا تسلسل ہے، جس کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے منسلک ایک متنازع ریزورٹ کی تعمیر کے منصوبے کے بعد ہوا تھا۔