فضل الرحمان کے شہداء سے متعلق بیان پر آزاد کشمیر کے عوام کا شدید ردِعمل

 مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے شہداء سے متعلق بیان پر آزاد جموں و کشمیر سے عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ 

عوامی حلقوں نے ان کے اس بیان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قومی اداروں کے احترام، ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کو سیاست سے بالاتر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آزاد کشمیر سے سامنے آنے والے عوامی ردعمل کے مطابق ملک اور ریاست کے مفادات کو ہر سیاسی معاملے پر ترجیح دی جانی چاہیے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں، تاہم ان اختلافات کو قومی اداروں کے بارے میں محاذ آرائی یا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

ردعمل میں مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ سیاسی مفادات کیلئے قومی اداروں کو ہدفِ تنقید بنانا مناسب طرزِ عمل نہیں۔

ناقدین کے مطابق سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مؤقف کے اظہار میں قومی حساسیت، ملکی استحکام اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھے۔

عوام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہداء کی قربانیوں کا احترام قومی ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے محتاط اور ذمہ دارانہ طرزِ بیان اختیار کیا جانا چاہیے۔

 عوامی حلقوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کی غیور عوام اپنے ملک اور افواجِ پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی تھی ہے اورہمیشہ رہے گی۔