مظفرآباد: آزاد کشمیر کی خوبصورت وادیٔ لیپہ کے جنگلات میں موجود قیمتی دیودار کے درختوں کے تنوں پر گہرے کٹ لگائے جانے کا انتہائی تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد خطے میں جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حاصل شدہ معلومات کے مطابق مقامی سطح پر یہ خدشہ شدید طور پر ظاہر کیا جا رہا ہے کہ درختوں کے تنوں پر گہرے کٹ جان بوجھ کر لگائے جا رہے ہیں تاکہ ان قیمتی درختوں کو نقصان پہنچا کر بتدریج خشک کیا جا سکے اور بعد ازاں ان کی انتہائی قیمتی لکڑی حاصل کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خطرہ بھی مسلسل ظاہر کیا جا رہا ہے کہ درختوں کو خشک کر کے جنگلاتی زمینوں پر ممکنہ طور پر ناجائز قبضے کی راہ ہموار کرنے کی باقاعدہ کوشش کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیلم میں درختوں کی بے دریغ کٹائی، دیودار کی لکڑی کی سمگنگ ناکام
حکومت آزاد کشمیر اور محکمہ جنگلات سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ:
اس تشویشناک صورتحال پر سامنے آنے والی رپورٹ میں حکومتِ آزاد کشمیر اور بالخصوص محکمہ جنگلات کے اعلا حکام سے زوردار مطالبہ کیا گیا ہے کہ متاثرہ تمام درختوں کا بلا تاخیر اور فوری طور پر معائنہ کیا جائے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس پورے معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور اس تخریبی عمل کے تمام ذمہ داروں کا فوری تعین کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وادیٔ لیپہ کے جنگلات کا تحفظ اور فوری عملی اقدامات:
واضح رہے کہ وادیٔ لیپہ کے قدرتی جنگلات نہ صرف مقامی ماحول بلکہ پورے خطے کے لیے قدرت کا ایک انتہائی قیمتی اور بے مثال سرمایہ ہیں۔ ان تمام قدرتی اثاثوں اور جنگلاتی زندگی کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اب حکومتی اور انتظامی سطح پر فوری توجہ،نگرانی اور مؤثر عملی اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔




