محکمہ لائیو اسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ کے تحت بکریوں اور بھیڑوں کی سبسڈی سکیم ایک ہی گائوں میں تقسیم کردی گئی جس کی رپورٹ کشمیر ڈیجیٹل کو موصول ہو گئی ہے اور اس میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں اور لاکھوں روپے اپنوں میں بانٹ دیئے گئے ہیں۔
محکمہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق بھمبر میں Sheep and Goat Development کے تحت مختلف اخباروں میں اشتہارات دیئے گئے تھےجس کے تحت بھمبر میں 104درخواستوں میں موصول ہوئیں لیکن سبسڈی ایک ہی گائوں میں تقسیم کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: جلال آباد گارڈن: زرعی نمائش، پاک فوج کا لائیوسٹاک سٹال عوامی توجہ کا مرکز بن گیا
سکیم کے پی سی ون کے مطابق 3کیٹگریزرکھی گئی تھیں جس کے مطابق کی کیٹگری A والے کو دولاکھ ،Bوالے کو چار لاکھ اور Cوالے کو چھ لاکھ کی گرانت دی جانی تھی جبکہ سکیم کے تحت قرعہ اندازی کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا
رپورٹ کے مطابق کل 14 کسانوں کو ادائیگی کی جانی پائی گئی ہےجس کے مطابق کیٹگری اے 08 کیٹگری بی 4 اور کٹیگری سی میں 02 فارمرز کو ہونی تھی ۔
اس طرح کل 14 میں سے 11 فارمرز کا تعلق ایک ہی گاؤں کڈیالہ تحصیل سماہنی سے ہونا پایا گیا ہے ۔ جبکہ ایک مقامی تحصیل بھمبر اور 2کیس ایک ہی گاؤںبر نالہ پینتی کے ہونے پائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کڈیالہ سماہنی کے ایک ہی گاؤں کے گیارہ افراد برنالہ کے ایک ہی گاؤں کے دو افراد کے نام قرعہ نکلے ۔
رپورٹ کے مطابق رجسٹر وصولی ڈاک ملاحظہ کیا گیا توواضح طور دیکھا گیا کہ جن افراد کو سکیم کے تحت مالی معاونت فراہم ہوتی ہے کے نام پہلے سے لکھی گئی تحریر کومٹا کر ان کے نام لکھے گئے ہیں۔
ٹیم نے فارمز کا معائنہ کیا تو ان کے گھروں میں مقامی نسل کی 3سے 4بکریاں پائی گئیں اور یوں 44لاکھ روپے ہڑپ کر لئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: منہ کھر بیماری کا پھیلائو، میرپور کےداخلی راستوں پر لائیوسٹاک چیک پوسٹیں قائم
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ ایک ہی دن تمام سلیکٹڈ فارمرز سے بیان حلفی لیا گیا جبکہ بھیڑ بکریوں کی خریداری بھی ایک ونڈر سے کی گئی۔
رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں 300 بھیڑ ، بکریاں ایک فروخت کنندہ کے پاس بیک وقت موجود ہوں ۔ بظاہر یہ ساری کارروائی Fake لگتی ہے۔





