نیلم (کشمیر ڈیجیٹل)گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کٹھہ چوگلی اور گورنمنٹ سکول جمگر تباہی کے دہانے پر۔ تعلیمی اداروں میں تعینات معلمات دو سال سے غیر حاضر، طلباء کا مستقبل مخدوش ہوگیا ۔
ذرائع کے مطابق ارباب اختیار کے نوٹس میں لانے کے باوجود ان کو نوکری سے فارغ کیا نہ ہی کوئی نئی تعیناتی کی جاسکی، عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
شہریوں کا وزیراعظم اور وزیر تعلیم آزاد کشمیر سے نوٹس لیکر سخت سے کاروئی کا مطالبہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم کی کمزور گرفت سیاسی اثر رسوخ اور سیاسی مداخلت، معلمات سالوں سےتعلیمی اداروں سے غیر حاضر، گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرنے لگیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جمادی الاول کا چاند نظرآ گیا،مولاناعبدالخبیرآزادکا اعلان
محکمہ تعلیم کو علم ہونے کے باوجود اب تک کاروائی نہیں کی جاسکی ،جبکہ متعدد سرکاری سکولوں میں معلمات نے ادارے ٹھیکے پر دے رکھے ہیں۔
کٹھہ چوگلی میں تعینات معلمات ٹیکنیکل آسامی نائید اختر ،ایلمنٹری معلمہ مسرت شاہین جون2026سے غیر حاضر جبکہ تبسم بتول نے غیر حاضر رہنے کے ساتھ ساتھ تبادلے کیلئے بھی اثر رسوخ استعمال شروع کر دیا۔
جمگر سکول میں تعینات دو معلمات زہرا جبین اور شگفتہ شفیق دو سالوں سے غیر حاضر ہیں جبکہ تنخواہیں باقاعدہ وصول کر رہی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا بھمبر سے تاؤبٹ تک بلا تخصیص تعمیر ترقی کا اعلان
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ سے اس حوالے سے موقف لیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان ساری معلمات کیخلاف کاروائی کیلئے بالا حکام کو مکتوب متعددبار لکھے مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر کو انکی تنخواہیں بندش کی تحریک کی گئی وہ بھی بند نہ ہوئی اس پر ادارے والوں کا موقف ہے کہ سیکرٹری تعلیم کے پاس تنخواہیں بند کرنے کا اختیار ہے تو وہ تحریک کریں۔
حکومتی بے حسی کے باعث نیلم کے متعدد تعلیمی اداروں میں سٹاف غیر حاضر رہنا معمول بن گیا نیلم کی سول سوسائٹی نے اس سب معاملات پر فوری نوٹس لیکر کاروئی کا مطالبہ کیا ہے۔




