پشاور(کشمیر ڈیجیٹل)تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ختم ہوتے ہی شہرام خان ترکئی بھی منظرِ عام سے غائب ہو گئے ۔
صوبائی سطح پر اہم عہدوں پر فائز رہنے والے شہرام خان ترکئی جیسے ہی اقتدار سے محروم ہوئے تو قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کے بجائے روپوش ہونے کا راستہ منتخب کر لیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا: ایمرجنسی کا فیصلہ صوبے کے مشکل حالات دیکھ کر کرنا پڑا،محسن نقوی
شہرام خان ترکئی اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ماضی میں کئے گئے غلط فیصلوں اور کرپشن کا حساب انہیں دینا ہی پڑے گا، اور قانون کی گرفت سے فرار ممکن نہیں ۔
اس احتساب سے بچنے کیلئے شہرام خان ترکئی نے روپوشی کو ایک نئے ڈرامے کا روپ دیا ہے تاکہ اسے اغوا کا کیس بنایا جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اقتدار ختم ہوتے ہی ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کے روپوش ہونے کا انکشاف،اغواء کا ڈرامہ بے نقاب
ان کے حمایتی سوشل میڈیا پر یہ پراپیگنڈا کر رہے ہیں کہ شہرام خان ترکئی کو زبردستی اٹھا لیا گیا ہے، حالانکہ وہ خود ہی گرفتاری کے ڈر سے ایک محفوظ جگہ پر چھپے ہوئے ہیں۔
روپوش ہونے سے پہلے کچھ گاڑیوں کو سڑکوں پر لاوارث چھوڑنے اور ڈرامائی مناظر تیار کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہمدردی حاصل کر کے قانونی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔




