مظفرآباد: آزادکشمیر میں غیر معیاری گھی کی فروخت پر پابندی

مظفرآباد : مظفرآباد فوڈ اتھارٹی نے غیر معیاری خوراک کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر میں مومن بناسپتی کی فروخت پر پابندی عائد کر دی۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ لیبارٹری رپورٹ کے مطابق مومن بناسپتی کو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس پروڈکٹ پر فوری پابندی لگانے کی سفارش کی گئی تاکہ ممکنہ صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔

اس کے پیش نظر سیکرٹری فوڈ اتھارٹی نے آزاد جموں و کشمیر فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2017 کے سیکشن 25 (غیر محفوظ خوراک) کے تحت ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے تحت مومن بناسپتی کے فروری 2025 میں تیار کردہ بیچ نمبر 27 کو سیل کر دیا گیا۔ مزید برآں تمام اضلاع میں فوڈ سیفٹی افسران کو سختی سے اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت خوراک سے محفوظ رکھا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر فوڈ اتھارٹی نے غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ اشیائے خورد و نوش کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لاتے ہوئے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

حالیہ آپریشن کے دوران جہلم ویلی میں فوڈ اتھارٹی نے بڑی تعداد میں غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ اشیائے خورد و نوش، مشروبات، منجمد خوراک، گھی، تیل اور اسنیکس ضبط کر کے بھاری جرمانے عائد کیے۔ یہ آپریشن ضلعی فوڈ کنٹرولر مظفرآباد ابرار احمد میر کی نگرانی میں کیا گیا جس میں کئی کاروباری فوڈ آپریٹرز کو اصلاحی نوٹس بھی جاری کیے گئے۔

ابرار احمد میر نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2017 کے تحت غیر رجسٹرڈ اشیائے خورد و نوش کی خرید و فروخت ایک قانونی جرم ہے، اور معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر معیاری اور مضر صحت خوراک فروخت کرنے والے تاجروں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

فوڈ اتھارٹی کے حکام نے واضح کیا کہ صرف وہی اشیائے خورد و نوش فروخت کی جا سکتی ہیں جنہیں فوڈ اتھارٹی سے باقاعدہ منظوری حاصل ہو۔

Scroll to Top