کشمیر ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اپرنیلم میں تعینات ایڈھاک صدر معلمہ نورین ظفر نے سروس سے فارغ کیے جانے کے بعد ناظم اعلی ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری سکولز آزادکشمیر تسنیم گل کو جعلی قرار دے دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ناظم اعلیٰ کے شوہر سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں اور ان کے بیوروکریسی سے تعلقات ہیں۔ ان کا اپنا کوئی میرٹ نہیں یہ دوسروں کو میرٹ کا درس کیسے دے سکتی ہیں؟
انہوں نے کہاموجودہ حکومت کے لیے یہ سوالیہ نشان ہے کہ ایک ایسی خود غرض خاتون، جسے بات کرنے کا سلیقہ نہیں اور جس کی تقرری کو ملک کی اعلیٰ عدالتیں غیر قانونی قرار دے چکی ہیں اسے کس طرح ایک بڑی انتظامی پوسٹ پر بٹھایا جا سکتا ہے؟ اس فیصلے سے دیگر سینئرز کی حق تلفی کی جا رہی ہے۔نورین ظفر نے الزام عائد کیا کہ انہیں ذاتی دشمنی کا نشانہ بنا کر سکول سے فارغ کیا گیا اور جان بوجھ کر ان کی جگہ کسی اور کو تعینات کیا گیا۔
نورین ظفر نے وزیرِاعظم اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں تاکہ نااہل افراد کی تعیناتی اور سینئرز کی حق تلفی کا سلسلہ روکا جا سکے۔




