ثناء اللہ

ریاست کو یرغمال بنا کر مطالبات نہیں منوائے جاسکتے : رانا ثناء اللہ

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو یرغمال بنا کر مطالبات تسلیم نہیں کرائے جاسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی سیاسی ایجنڈے کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ وزیراعظم اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، اس لیے پی ٹی آئی کو دھرنا ختم کرنا چاہیے۔

سیاسی عدم استحکام

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ریاست کو یرغمال بنانے یا سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، رانا ثناء اللہ

ان کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کے مطالبات ایسے طریقے سے تسلیم نہیں کیے جاسکتے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی سیاست پر سخت تنقید بھی کی۔

رانا ثناءاللہ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے بجائے گالم گلوچ اور عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دیا۔

اسلام آباد کا گھیراؤ

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ 2014 کے بعد سے پی ٹی آئی مسلسل اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس مقصد کیلئے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل استعمال کیے جارہے ہیں۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ایک طرف سکیورٹی فورسز اور پولیس کے اہلکار شہید ہورہے ہیں۔ کیا یہ شہداء کسی سیاسی جماعت کے کارکن ہیں؟

انہوں نے کہا کہ شہداء کا تعلق خیبر پختونخوا سے بھی ہے۔ مسلح افواج کے شہداء میں بڑی تعداد خیبر پختونخوا کے جوانوں کی ہے۔

لانگ مارچ پر تنقید

رانا ثناءاللہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت لوگوں کو جمع کرنے کیلئے وسائل استعمال کررہی تھی۔

ان کے مطابق صوبائی حکومت کی کوششوں کے باوجود عوام نے لانگ مارچ کو مسترد کردیا۔ انکا کہنا تھا کہ مارچ شروع ہونے کے بعد کسی مقام پر چند ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں ہوسکے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ چوتھے روز میں داخل ہوچکا ہے۔ قافلہ پشاور کے مضافاتی علاقے متنی سے خیبر ضلع کی جانب روانہ ہونے والا ہے۔

کیمپس کا معاملہ

مشیر وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے کیمپس کیلئے کروڑوں روپے جمع کئے گئے، مگر وہاں شرکاء کیلئے بنیادی سہولتیں بھی موجود نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا لیکن حکومت نے اس معاملے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے عوامی خدمت کو ترجیح دینی چاہیے۔

مذاکرات میں ڈیڈلاک

رانا ثناءاللہ نے مذاکرات میں ڈیڈلاک کی وجوہات کے حوالے سے پی ٹی آئی کے مؤقف کو بھی مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ دہشتگردی کے خلاف پالیسی میں پی ٹی آئی کا نقطہ نظر شامل نہیں کیا گیا۔

ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی پہلے سے موجود ہے۔ مسلح افواج انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے اس پالیسی پر عمل کررہی ہیں۔

پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان لانگ مارچ روکنے کیلئے 2 اور 3 اکتوبر کو مذاکرات ہوئے تھے۔ تاہم بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔

نیا آپریشن نہیں ہوگا

رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں کوئی نیا آپریشن شروع نہیں کیا جارہا۔

انہوں نے کہا کہ نئے آپریشن کے نتیجے میں آئی ڈی پیز بنانے کا بھی کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل اور وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے بھی مطالبہ کررہا ہے کہ اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔

رانا ثناءاللہ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور چین نے افغان حکام کو دہشت گردی کے معاملے پر سمجھانے کی کوشش کی، تاہم مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔

افغان سرزمین کا معاملہ

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ وزیر دفاع دو مرتبہ استنبول میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کرچکے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی ہوئی تو اسے روکا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں ثبوت کی بنیاد پر محدود کارروائیاں بھی کی ہیں۔

ایپکس کمیٹی پر سوال

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے صوبائی سربراہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق سہیل آفریدی نے 11 ماہ میں صرف ایک اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کیلئے صوبائی حکومت کی فعال موجودگی ضروری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف حکومتی پالیسی کی کامیابی میں رکاوٹ کی ایک وجہ صوبائی حکومت کی عدم موجودگی ہے۔

پولیس کی صورتحال

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج کا کام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ اس کے بعد سول انتظامیہ کو معمول کا نظام سنبھالنا ہوتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے پانچ اضلاع میں پولیس اسٹیشنز موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کی 17 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔

رانا ثناءاللہ نے بتایا کہ صوبے میں سی ٹی ڈی کے تقریباً 3300 اہلکار ہیں۔ ان میں سے صرف 25 مستقل جبکہ باقی کنٹریکٹ پر ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کو مطلوبہ بجٹ بھی فراہم نہیں کیا جارہا۔

شہریوں کا تحفظ

رانا ثناءاللہ نے سوال اٹھایا کہ کروڑوں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کون کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھا جاسکتا۔ پولیس اہلکار بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جانیں قربان کررہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کسی دوسری جیل منتقل نہیں کیا جارہا،رانا ثناءاللہ

مشیر وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے موجودہ آئی جی پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔