مذاکرات کی ناکامی کے پسِ پردہ کیا ہوا؟ طلال چوہدری کا بڑا دعویٰ

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما طلال چوہدری نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے اہم دعویٰ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کے اندرونی معاملات پر روشنی ڈالی ہے۔

چار مرتبہ معاہدے پر اتفاق ہوا، طلال چوہدری

طلال چوہدری کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوران چار مرتبہ مکمل معاہدے پر اتفاق ہوا اور تمام اہم نکات پر بات طے پا گئی تھی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طبیعت ٹھیک اور وہ صحتمند ہیں، طلال چوہدری

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات ہر بار حتمی مرحلے تک پہنچے، تاہم آخری وقت میں صورتحال تبدیل ہوگئی اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم طے شدہ نکات سے پیچھے ہٹ گئی۔

پشاور سے ڈکٹیشن ملنے کا الزام

ن لیگی رہنما نے الزام عائد کیا کہ ہر مرتبہ حتمی مرحلے پر پشاور اور خیبر پختونخوا کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ہدایات ملنے کے بعد پی ٹی آئی کے مذاکرات کار بے بس ہوگئے اور پہلے سے طے شدہ معاملات پر اتفاق برقرار نہ رہ سکا۔

طلال چوہدری نے بالخصوص خیبر پختونخوا کی قیادت اور سہیل آفریدی کے کردار پر سوالات اٹھائے۔

ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنا قرار

طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں موجودہ ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کا معاملہ ہے۔

ان کے مطابق حکومت قومی سلامتی اور امن و امان کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت سے تعاون چاہتی ہے، تاہم ان کا الزام ہے کہ پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت ریاستی اقدامات کا مطلوبہ ساتھ نہیں دے رہیں۔

پی ٹی آئی قیادت پر سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کا الزام

ن لیگی رہنما نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کی فیصلہ سازی پر پشاور میں موجود قیادت کا اثر ہے اور بعض عناصر سیاسی مفادات کو ملک میں امن و استحکام سے زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی اختلافات کے بجائے قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

سہیل آفریدی کے کردار پر طلال چوہدری کی تنقید

طلال چوہدری نے سہیل آفریدی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے کردار کو مذاکراتی عمل میں رکاوٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران بار بار اتفاق رائے کے باوجود آخری مرحلے میں معاملات کا دوبارہ تعطل کا شکار ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذاکراتی ٹیم مکمل طور پر بااختیار نہیں تھی۔