تارکین وطن

امریکی سپریم کورٹ، تیسرے ملک میں تارکین وطن کی ملک بدری کی پابندی ختم

امریکا کی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو اپنے ملک کے بجائے کسی دوسرے ملک میں ڈی پورٹ کئے جانے پر پابندی ختم کر دی ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قدامت پسند اکثریت رکھنے والی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی ہنگامی درخواست کو منظور کرتے ہوئے زیریں عدالت کا وہ فیصلہ معطل کر دیا جس میں ’تیسرے ملک کی طرف بے دخلی‘ پر پابندی عائد کی تھی تاہم اسے مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا گیا تھا۔

زیریں عدالت کا فیصلہ کیا تھا؟
زیریں عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جن افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہو ان کو پہلے سے مکمل طور پر بتایا جانا ضروری کہ انہیں کس ملک میں بھیجا جائے گا تاکہ وہ ممکنہ خدشات سے عدالت کو آگاہ کر سکیں۔

سپریم کورٹ کے تین ججز کا اختلاف
اس موقع پر نو رکنی پینل میں شامل تین لبرل ججز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست کو منظور نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی ملک بدری کی پالیسی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران لاکھوں تارکین کو امریکہ سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا۔ 2025ء میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد انہوں نے اس پر عمل کرتے ہوئے ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کیلئے اقدامات کئے۔

تیسرے ممالک میں بھیجنے کا امریکی مؤقف
ٹرمپ انتظامیہ تارکین کی کسی تیسرے ملک میں ملک بدری کا دفاع کرتے ہوئے کہتی ہے کہ بعض تارکین اپنے ممالک میں جانے سے انکار کرتے ہیں، اس لیے ان کو دوسرے ممالک میں بھجوانا ضروری ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف غیرقانونی قرار دیدیا، ٹرمپ کا سخت ردعمل، متبادل پلان کا اعلان

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں پابندیاں ختم کرنے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ زیریں عدالت کے فیصلے نے تیسرے ممالک کی طرف بھجوائے جانے کے عمل کو نہیں روکا تھا بلکہ صرف تقاضا کیا تھا کہ یہ عمل قانون کے مطابق رکھا جائے۔

تارکین کو رکھنے والے ممالک سے معاہدے
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے کئی ممالک خصوصاً ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے کئے ہیں جن کے مطابق امریکہ سے نکالے جانے والے تارکین کو اپنے پاس رکھتے ہیں اور اس کے بدلے ان کو لاکھوں ڈالر دیے جاتے ہیں۔

معاملے پر دسمبر میں سماعت متوقع
سپریم کورٹ نے تارکین کو تیسرے ممالک میں بھجوائے جانے کے عمل سے جڑے معاملات کی قانونی حیثیت کو پرکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کی اور کہا کہ اس بارے میں دسمبر میں سماعت کی جا سکتی ہے۔