پاکستان میں سونے کی قیمتیں، فی تولہ سونا سستا ہو گیا!

عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے اثرات کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں سرمایہ کاروں کی توجہ عالمی معاشی اور جغرافیائی عوامل پر مرکوز ہو گئی ہے۔

ملک بھر میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے بعد مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی سونا سستا ہو گیا ہے۔

فی تولہ اور 10 گرام سونے کی نئی قیمتیں:

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں آج 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 1 ہزار 800 روپے کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 53 ہزار 936 روپے کی سطح پر آ گیا ہے۔

اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 1,544 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے اس کی نئی قیمت 3 لاکھ 89 ہزار 176 روپے مقرر ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 30 روپے گر کر 7 ہزار 8 روپے ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اتار چڑھاؤ، عالمی منڈی میں سونا سستا یا مہنگا؟

عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ اور اسباب:

دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 18 ڈالر کی کمی کے بعد 4 ہزار 314 ڈالر پر آ گئی ہے۔ سونے کی قیمت میں ہونے والی اس کمی نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے، جہاں اسپاٹ گولڈ کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں پر امریکی ڈالر، امریکی ٹریژری ییلڈز اور شرحِ سود کی توقعات کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ حالیہ دنوں کے دوران بلند توانائی قیمتوں اور امریکی شرحِ سود سے متعلق سخت پالیسی کے خدشات نے سونے کی مارکیٹ پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

امریکا ایران مذاکرات اور فیڈرل ریزرو کے فیصلے:

اس کے علاوہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات بھی مارکیٹ کے لیے ایک اہم اشارہ بن چکے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اشارہ دیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور معاہدے کی امید موجود ہے، تاہم واشنگٹن نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنا مؤقف تاحال برقرار رکھا ہے۔ اگر ان مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے عالمی توانائی مارکیٹ بالخصوص تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری اہم وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے اقدامات ہیں، جس نے شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ کا اضافہ کرتے ہوئے ہدف کی حد 3.75 سے 4 فیصد کر دی ہے۔ فیڈرل ریزرو کے مطابق مہنگائی کو 2 فیصد کے ہدف پر لانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی ضروری ہے، جس سے سود دینے والے اثاثوں کی کشش بڑھتی ہے اور سونے کی طلب متاثر ہوتی ہے۔

عوام، سرمایہ کار اور مارکیٹ کا آئندہ رخ:

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کا اثر مقامی مارکیٹوں پر بھی پڑتا ہے، تاہم پاکستان میں سونے کی قیمتیں صرف عالمی نرخ پر منحصر نہیں ہوتیں بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور مقامی طلب بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

فی الحال سونے کی قیمت کا اگلا راستہ امریکا ایران مذاکرات، عالمی تیل کی قیمتوں، امریکی ڈالر، ٹریژری ییلڈز اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں سے جڑا ہوا ہے، اور آنے والے دنوں میں یہ تمام عوامل سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہیں گے۔