ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کا بڑا اقدام ،35یتیم بچوں میں امدادی  رقوم تقسیم

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز (ROKM) کے زیر اہتمام مدرسہ دارالہدیٰ میں تقریبِ تقسیمِ انعامات و مالی معاونت کا انعقاد کیا گیا، جس میں 1989ء کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کرنے والے خاندانوں کے 35 یتیم بچوں اور بچیوں جبکہ 16 طلبہ و طالبات میں نقد رقوم تقسیم کی گئی۔

تقریب میں یتیم مہاجر بچوں اور بچیوں، طلبہ و طالبات، والدین اور مہاجر خاندانوں کی بڑی تعداد کے علاوہ سماجی و فلاحی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد مستحق اور یتیم بچوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کےساتھ ساتھ ان کی تعلیمی ضروریات میں مدد بہم پہنچانا اور انہیں تعلیم کے حصول کےلئے حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز کے منتظمین کے مطابق ادارہ گزشتہ کئی برسوں سے مہاجر خاندانوں، خصوصاً یتیم بچوں اور مستحق طلبہ کی مالی معاونت کےلئے مختلف فلاحی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر کی گفتگو، پارٹی امور پر اہم خیالات کا اظہار

اس سلسلے میں گزشتہ ماہ اسلام آباد میں بھی 1989ءکے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کرنے والے خاندانوں کے بچوں میں نقد رقوم تقسیم کی گئی تھی۔ ادارے کے مطابق مختلف مراحل میں اب تک تقریباً 120 یتیم بچوں اور 16 طلبہ و طالبات کو مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔

تقریب میں ROKM کے وائس چیئرمین و چیف ایگزیکٹو ثناءاللہ ڈار، کویت سے تعلق رکھنے والے ادارے کے ڈونر اور سماجی شخصیت محمود فوزی، جاوید حسین خان، کوآرڈی نیٹر ROKMسید سلیم شاہ، پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد آصف، نثار رسول اورآصف مخدومی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

ثناءاللہ ڈار نے ادارے کی 33 سالہ فلاحی اور سماجی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ضرورت مند افراد اور خاندانوں کی معاونت کےلئے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں ۔۔

بالخصوص مہاجر خاندانوں کے بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات پوری کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ثناءاللہ ڈار نے موجودہ عالمی معاشی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں غیر سرکاری اور فلاحی تنظیموں کےلئے اپنے امدادی پروگرام جاری رکھنا ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔

اس کے باوجود ادرے کی جانب سے ضرورت مند خاندانوں اور مستحق بچوں کی معاونت کیلئے دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے یتیم بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے گھربار اور معمول کی زندگی چھوڑ کر ہجرت کا مقدس سفر اختیار کرکے نئے علاقے میں آباد ہوئے۔

انہیں متعدد مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔بہت سے مہاجر خاندانوں نے انتہائی نامساعد حالات میں اپنی زندگی کا آغاز دوبارہ کیا اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کےلئے مسلسل جدوجہد کی۔

ثناءاللہ ڈار نے بچوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور محنت و لگن کے ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹر محمد اشتیاق نے یونیورسٹی آف بھمبر کے وائس چانسلر کا چارج سنبھال لیا

انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے بچے اپنا مستقبل بہتر بنا کر اپنے خاندانوں کےلئے ایک مضبوط سہارا بن سکتے ہیں۔ انہوں نے یتیم بچوں کو اپنی ماوں کی خدمت اور ان کی ضروریات کا بھرپورخیال رکھنے کی بھی تلقین کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جن بچوں کے والدین نے ہجرت کے دوران مشکلات و مصائب برداشت کیں، ان کےلئے یہ لازم ہے کہ وہ اپنی تعلیم کےساتھ ساتھ اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ مہاجر خاندانوں کے بچے ایک مشکل پس منظر کے باوجود آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور مسابقتی امتحانات میں بھی خود کو منواتے ہیں ۔ اگر انہیں تعلیم، تربیت اور مناسب مالی معاونت فراہم کی جائے تو وہ مستقبل میں نہ صرف اپنے خاندان بلکہ معاشرے کیلئےبھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تقریب میں دیگر مقررین نے بھی یتیم اور مستحق بچوں کی سرپرستی، تعلیم اور مالی معاونت کی اہمیت پر زور دیا۔مقررین نے کہا کہ مہاجر خاندانوں کے بچوں کی ضروریات صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ انہیں مسلسل تعلیمی رہنمائی، اخلاقی تربیت اور معاشرتی معاونت کی بھی ضرورت ہے۔

امداد حاصل کرنے والے بچوں اور ان کے اہل خانہ نے ROKM اور اس کے معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فلاحی سرگرمیوں کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مہاجر خاندانوں کے یتیم بچوں اور مستحق طلبہ کی تعلیمی و مالی ضروریات پوری کرنے کیلئےاجتماعی سطح پر تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ یہ بچے مشکلات کے باوجود تعلیم مکمل کرکے اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔

ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز(ROKM) نے 1993ءسے جون 2026ءتک اپنی 33 سالہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی۔جس میں کہا گیا کہ ادارے نے اس عرصے میں2,700 طلبہ اور 25 ہزار خاندانوں کو خصوصی امداد فراہم کی ، جبکہ 17,595 بچوں نے ناظرہ قرآن مکمل کیا اور 3,300 خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کیلئے ہنر مند بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 33 برسوں میں فلاحی سرگرمیوں اور انتظامی امور پر مجموعی طور پر 2 ارب 70 کروڑ 90 لاکھ 80 ہزار 530 روپے خرچ کیے گئے۔ ادارے نے موجودہ دیگر گوںعالمی معاشی حالات کے باعث درپیش مشکلات کے پیش نظر مخیر حضرات سے تعاون کی اپیل کی ہے۔