لانگ مارچ

اسلام آباد پہنچنے سے قبل جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان

جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا پانچواں دور بھی مکمل ہوگیا، جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل مذاکرات میں اہم پیشرفت کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

ریلیف پیکج کی پیشکش

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو ایک بڑا عوامی ریلیف پیکج پیش کیا گیا ہے، تاہم اس پیشکش پر جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری ابھی باقی ہے۔

وزیراعظم کی حمایت

حکومتی مذاکراتی ٹیم نے جماعت اسلامی کو یقین دہانی کرائی کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی اس معاملے پر حکومتی پیشکش کے حوالے سے آن بورڈ ہیں اور معاملے کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ملاقات متوقع

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی واپسی پر جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات بھی متوقع ہے۔ اس حوالے سے دونوں جانب براہِ راست رابطے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

لانگ مارچ میں وقفہ

جماعت اسلامی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو لانگ مارچ میں عارضی وقفہ کیا جاسکتا ہے، تاہم پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے بغیر احتجاجی تحریک ختم نہیں کی جائے گی۔

لیوی پر مؤقف

جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خلاف اپنے مطالبے پر قائم ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ عوام پر اضافی بوجھ کم کرنےکیلئے لیوی کے خاتمے کے معاملے پر واضح فیصلہ ضروری ہے۔

حافظ نعیم کا انتباہ

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ عوامی ردعمل کو سنجیدگی سے لے اور معاملے کو انا کا مسئلہ نہ بنائے۔

حکومت مخالف تحریک کا خدشہ

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق اگر پٹرولیم لیوی کے معاملے پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاجی تحریک مزید وسعت اختیار کرسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کے پاس مسئلے کے حل کیلئے لیوی کے خاتمے سمیت مؤثر اقدامات کا راستہ موجود ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم لیوی کے متبادل کے لیے جماعت اسلامی کی 6 شاندار تجاویز سامنے آگئیں

جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا ہی تحریک کی بنیادی وجہ ہے، اگر حکومت سنجیدہ ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کو مذاکرات میں آن بورڈ آنا پڑے گا۔