خواجہ فاروق

آزاد کشمیر بحران میں بڑا بریک تھرو ،خواجہ فاروق میدان میں آگئے

مظفرآباد( کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر میں جاری کشیدہ صورتحال کے خاتمے اور سیاسی و عوامی فریقین کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کم کرنے کیلئے سابق اپوزیشن لیڈر قانون ساز اسمبلی خواجہ فاروق احمد نے اہم سیاسی پیشرفت کرتے ہوئے حکومتِ آزاد کشمیر اور حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی باضابطہ اپیل کر دی ہے اور خود کو دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کے طور پر پیش کر دیا ہے۔

خواجہ فاروق احمد نے صدر ، وزیر اعظم، سپیکر قانون ساز اسمبلی ، تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی صورتحال نے انہیں گہری تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، قانون کے نفاذ کے نام پر پیدا ہونے والی صورتحال، قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال نے پورے معاشرے کو شدید تکلیف پہنچائی ہے، سینکڑوں خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا اور ایسی صورتحال کو دوبارہ رونما نہیں ہونا چاہیے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور ایڈہاک ملازمین کا معاملہ فوری حل کریں، خواجہ فاروق

انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ابتدا میں پیش کیے گئے بیشتر مطالبات جائز اور سنجیدہ غور کے مستحق تھے، تاہم حکومت کی جانب سے کیے گئے معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور بعد ازاں بعض مطالبات کو معاہدے کا حصہ بنائے جانے کے باعث عوام میں بداعتمادی اور شدید مایوسی پیدا ہوئی، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوتے چلے گئے۔

سابق اپوزیشن لیڈر نے واضح کیا کہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت اور سخت اقدامات کسی بھی مرحلے پر مسئلے کا حل نہیں ہو سکتے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے ایسے المیے کو جنم دیا جس کے نتائج کا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔

خواجہ فاروق احمد نے اپنے خط میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عام انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مل کر اس وقت انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا تھا کہ موجودہ حالات ایک قابلِ اعتماد اور بامعنی انتخابی عمل کیلئے سازگار نہیں تھے، ایک کشمیری کی حیثیت سے وہ ایسے انتخابی عمل میں شریک ہونے پر خود کو آمادہ نہیں کر سکتے تھے جب ان کے اپنے لاکھوں لوگ مشکلات، بدسلوکی اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سامنا کر رہے تھے۔

تاہم اب انہوں نے واضح کیا ہے کہ مزید تصادم، تلخی اور خونریزی کسی کے مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام پہلے ہی بہت کچھ برداشت کر چکے ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال کو مزید بگاڑنے کے بجائے مسئلے کا سیاسی اور پُرامن حل تلاش کرنا ہوگا۔

خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ موجودہ تلخ حالات کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے درمیان تاریخی، آئینی اور برادرانہ تعلق کو کمزور کرنے کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہیے؛ پاکستان اور آزاد کشمیر کا رشتہ مشترکہ تاریخ، ایمان، قربانی اور بھائی چارے پر قائم ہے اور عوام کے بہترین مفاد میں اسے مضبوط رہنا چاہیے۔

انہوں نے حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور تمام زیرِ التوا معاملات کو بامعنی، منظم اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ وہ دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے ہر وقت دستیاب ہیں اور اعتماد کی بحالی، فاصلے کم کرنے اور دوستانہ و دیرپا تصفیے کی راہ ہموار کرنے کیلئےجو بھی تعمیری کردار ادا کرنا پڑا، وہ ادا کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام میں ان کا کوئی ذاتی یا سیاسی مفاد نہیں، ان کا واحد مقصد مزید خونریزی کو روکنا، آزاد کشمیر کے عوام کی عزت و وقار کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی میں مدد دینا ہے۔

خواجہ فاروق احمد نے تمام سیاسی اختلافات اور ذاتی رنجشوں سے بالاتر ہو کر عوام کے مفاد کو مقدم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ وقت تصادم کا نہیں بلکہ مکالمے کا، تقسیم کا نہیں بلکہ مفاہمت کا، اور مزید زخم دینے کا نہیں بلکہ زخموں کو مندمل کرنے کا ہے۔‘‘

مزید یہ بھی پڑھیں:پارلیمانی بورڈ کی سفارشات حتمی نہیں ہونگی، خواجہ فاروق کا حیران کن دعویٰ

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی اپیل کو اسی جذبے کے ساتھ دیکھا جائے گا جس کے تحت یہ پیش کی گئی ہے اور تمام متعلقہ فریق مثبت جواب دیتے ہوئے مذاکرات اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔