سینئر صحافی نوشین خواجہ کی سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد اور رکن قانون ساز اسمبلی سحرش قمر سے اہم ملاقات

آزاد کشمیر میں پبلک سروس کمیشن کی بحالی، نوجوانوں کے مستقبل اور میرٹ پر مبنی بھرتیوں کے نظام کو مؤثر بنانے کے حوالے سے نامور صحافی نوشین خواجہ نے سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد اور رکن قانون ساز اسمبلی سحرش قمر سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران پبلک سروس کمیشن کے امتحانات اور بھرتیوں میں تاخیر، نوجوان امیدواروں کو درپیش مشکلات، تعلیمی اصلاحات اور اس سے جڑی قانونی رکاوٹوں سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران سینئر صحافی اور اینکر پرسن نوشین خواجہ نے نوجوانوں، بالخصوص مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پبلک سروس کمیشن کا ایک مؤثر اور فعال نظام ہی نوجوانوں کو میرٹ اور شفاف مسابقت کی بنیاد پر ریاستی اداروں میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

امتحانات میں تعطل اور امیدواروں کو درپیش خدشات:

ملاقات کے شرکاء نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات اور بھرتیوں کا عمل قانونی معاملات اور عدالتی مقدمات کے باعث بارہا تعطل کا شکار ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان امیدوار طویل عرصے تک شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا مرحلہ مکمل، نئی حکومت کا آغاز اور نوجوانوں کی امیدیں

کئی امیدوار برسوں تک امتحانی عمل شروع ہونے کے منتظر رہتے ہیں اور اس دوران ان کی عمر مقررہ حد کے قریب پہنچ جاتی ہے یا پھر وہ عمر کی حد عبور کرنے کے باعث مسابقتی مواقع سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قانونی اور عدالتی معاملات کو اگرچہ آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے، تاہم ایسا مؤثر لائحہ عمل یا طریقہ کار وضع کیا جانا لازمی ہے جس کے باعث کسی بھی قانونی تنازع کی وجہ سے نوجوان امیدواروں کا مستقبل اور ان کی عمر کی مقررہ حد متاثر نہ ہو۔

رہنماؤں کی تجاویز اور عزم:

نوشین خواجہ نے نوجوانوں کے لیے میرٹ، شفافیت اور بروقت مقابلے کے امتحانات کے نظام کی شدید ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ریاستی اداروں میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے مواقع کے منتظر ہیں، اس لیے پبلک سروس کمیشن جیسے اہم ادارے کو غیر ضروری تعطل سے نکالنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

اس موقع پر سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے متعدد اہم تجاویز پیش کرتے ہوئے تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ پبلک سروس کمیشن کو فعال بنانے کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کے مسائل کا حل صرف روزگار کی فراہمی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ معیاری تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور میرٹ پر مبنی مواقع کی فراہمی کو بھی حکومتی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔

رکن قانون ساز اسمبلی سحرش قمر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پبلک سروس کمیشن اور نوجوانوں سے جڑے تمام معاملات کو متعلقہ فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا اور انہیں حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔