ایران نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مسجد اقصیٰ سمیت مقدس مقامات اور زائرین کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کو قابل مذمت قرار دے دیا ہے۔
گزشتہ روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عربی زبان میں جاری بیان لکھا کہ مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے کسی ڈرون کو مار گرانے کا محض دعویٰ کسی خاص فریق پر الزام عائد کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا، یمن کی حکومت نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سلامتی کونسل ،روس اور چین نے ایران کیخلاف امریکی قرارداد ویٹو کردی
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسلامی مقدس مقامات کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے اور اسے سکیورٹی کا مسئلہ بنانے سے گریز کیا جائے، اسے اختلافات پیدا کرنے یا خطے میں کشیدگی بڑھانے کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یاد رکھنا چاہئے کہ حالیہ مہینوں میں خطے میں فالس فلیگ کے واقعات پیش آئے ہیں، جن کا مقصد امریکا اور صیہونی حکومت کے جرائم سے عوامی توجہ ہٹانا اور اسلامی ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنا ہے۔
ان أيّ اعتداء على الأماكن المقدسة الإسلامية، ولا سيما مكة المكرمة والمدينة المنورة والمسجد الأقصى، وكذلك تهديد الزائرين والمجاورين لها، هو أمرٌ مدان.
وفي الوقت نفسه، فإن مجرد ادعاء اعتراض طائرة مسيّرة في طريقها إلى مكة المكرمة لا يمكن أن يشكّل أساسًا لاتهام طرفٍ بعينه، ولا سيما أن حكومة التغيير والبناء في اليمن قد نفت هذا الادعاء صراحةً.
وتؤكد الجمهورية الإسلامية الإيرانية ضرورة الحيلولة دون تسييس قضية المقدسات الإسلامية وأمننتها، وعدم استخدامها أداةً لإثارة الفتنة وتصعيد التوترات الإقليمية.
ولا ينبغي أن ننسى أن منطقتنا شهدت حالات عديدة من عمليات «العَلَم الكاذب»، ولا سيما خلال الأشهر الأخيرة، كان هدفها صرف أنظار الرأي العام عن الجرائم التي ارتكبها الكيان الصهيوني والولايات المتحدة في المنطقة، وإثارة الفرقة بين الدول الإسلامية.
يجب توخّي الحذر واليقظة!
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) September 17, 2026
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے فریقین سے محتاط رہنے کی اپیل کی۔
یہ بیان سعودی عرب کی جانب سے کئے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ منگل کی شام حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی سمت ایک ڈرون لانچ کیا گیا، جسے سعودی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کردیا۔ حوثیوں نے بھی سعودی عرب کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کے دفاع کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، ترجمان پاک فوج کا اعلان
سعودی عرب کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف ڈرون بھیجے جانے کے دعوے اور حوثیوں کی جانب سے اس کی تردید کے بعد معاملے پر اب ایران کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔
ترجمان ترکی المالکی کے مطابق واقعہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے، اس سے قبل 27 جولائی 2017 کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔




