ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کا نیا اور سخت طریقہ کار نافذ، ای سائن اور روڈ ٹیسٹ کے لیے سخت مدت مقرر

حکومت کی جانب سے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے ایک نیا اور نظرثانی شدہ طریقہ کار 17 ستمبر 2026 سے نافذ کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد لائسنس کے حصول کے عمل کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا اور مجموعی انتظامی امور کو بہتر بنانا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت امیدواروں کے لیے ای سائن (e-sign) اور روڈ ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے سخت مدت مقرر کی گئی ہے۔

نئے طریقہ کار کی اہم تفصیلات اور شرائط:

سرکاری حکام کے مطابق جو امیدوار ای سائن ٹیسٹ پاس کر لیں گے، انہیں لازمی طور پر اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر روڈ ٹیسٹ بھی پاس کرنا ہوگا۔ اگر مقررہ چوبیس گھنٹوں کے اندر روڈ ٹیسٹ مکمل نہ کیا گیا تو ای سائن کا نتیجہ غیر موثر ہو جائے گا اور امیدوار کو پورا عمل سرے سے دوبارہ شروع کرنا پڑے گا۔ ٹریفک افسران کو اس نئے طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈرائیونگ لائسنس کے لیے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ بالکل مفت، 13 بڑے اسپتالوں کی لسٹ جاری

حکام نے مزید واضح کیا ہے کہ اگر کوئی امیدوار مقررہ چوبیس گھنٹوں کے اندر دونوں ٹیسٹ پاس بھی کر لے، تب بھی اس وقت تک منظوری نہیں دی جائے گی جب تک پی ایس آئی ڈی (PSID) جنریٹ نہیں کی جاتی۔ نظرثانی شدہ طریقہ کار کے تحت اگر پی ایس آئی ڈی جنریٹ نہ کی گئی تو دونوں ٹیسٹ کے نتائج چوبیس گھنٹوں کے بعد ختم ہو جائیں گے۔ ایک بار پی ایس آئی ڈی جنریٹ ہونے کے بعد اس کی فیس سات دن کے اندر جمع کرانا لازمی ہوگی، اور مقررہ مدت میں فیس ادا نہ کرنے کی صورت میں پوری درخواست منسوخ کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ پی ایس آئی ڈی کی مدت ختم ہونے پر امیدوار کو دوبارہ دونوں ٹیسٹ دینا ہوں گے۔ تمام ٹیسٹ اسی مخصوص روڈ ٹیسٹ سائٹ پر مکمل کرنا ہوں گے جہاں باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس کی درخواست جمع کروائی گئی تھی۔