کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 ستمبر کو دی جانے والی ہڑتال کی کال کو کشمیری عوام نے کلیتاً مسترد کر دیا ہے۔ بظاہر عوامی حقوق کی بازیابی کے نام پر دی جانے والی اس ہڑتال نے عوام کے لیے مشکلات پیدا کیں، جس پر مظفرآباد کے شہری شدید برہم نظر آئے اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال پر سخت نوٹس لیا جائے۔
عوام کے ساتھ فراڈ اور نیشنلسٹ عناصر کی مداخلت:
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی حلقوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی بنیادی طور پر ہمارے ہی بھائیوں نے بنائی تھی اور اس کا مقصد مخصوص عوامی ایجنڈے کے تحت کام کرنا تھا، لیکن اب خود یہ بات سامنے آرہی ہے کہ یہ کمیٹی ہائی جیک ہو چکی ہے۔ ان کے اندر نیشنلسٹ عناصر گھس آئے ہیں جن کا اپنا ایک الگ ایجنڈا ہے۔ عوامی مفاد کے خلاف اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم، خواہ وہ کسی ادارے، فرد، حکومت یا تنظیم کی طرف سے ہو، کسی صورت قابل برداشت نہیں ہے اور اس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی نے ایک طے شدہ پروگرام کے تحت آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے اور انتخابات کو ملتوی کرانے کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا، مگر عوام اب ان کی حقیقت جان چکے ہیں۔ عوام کا ماننا ہے کہ ایکشن کمیٹی نے حقوق کی آڑ میں محاذ آرائی پیدا کی اور عوام کے ساتھ ایک طرح کا فراڈ کیا ہے، جس کی وجہ سے انفرادی اور اجتماعی سطح پر پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جہلم ویلی اور مظفرآباد: عوام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 ستمبر کی ہڑتال مسترد کر دی
ہڑتال کی ناکامی اور پاکستان کے ساتھ وابستگی:
عوامی سطح پر اس کال کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے دکانداروں نے اپنی دکانیں کھلی رکھیں اور پورا کاروبارِ زندگی حسب معمول رواں دواں رہا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی اب قانون کی نظر میں غیر قانونی (اللیگل) ہو چکی ہے، اس لیے اسے عدالت سے رجوع کر کے اپنی حیثیت کا تعین کروانا چاہیے۔ اب سوسائٹی کا کوئی بھی طبقہ ان کے ساتھ نہیں ہے اور لوگ اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مقررین اور شہریوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر لازم و ملزوم ہیں اور ہم پاکستان کا اٹوٹ انگ (Integral Part) ہیں، پاکستان سے جدا ہو کر ہمارا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ وطن سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا نہ کیے جائیں جو ریاست اور عوام کے نقصان کا باعث بنیں۔




