تہران(کشمیر ڈیجیٹل)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اور تیزی اختیار کرگئی ہے۔
دونوں فریقین کے ایک دوسرے کے بحری جہازوں اور جنگی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے ،ایران نے امریکی اہداف پر بلیسٹک میزائل داغ دیئے۔
رائٹرز کیمطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے اور آبنائے ہرمز میں 10بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اردن کے علاقے الازرق کے قریب امریکی فوج کے زیر استعمال اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:قائمہ کمیٹی اجلاس : عابدشیرعلی اور ایمل ولی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ،نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی
تاہم اردن نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 20 میں سے 18 میزائل راستے میں ہی تباہ کردیے جبکہ 2 میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
Witnesses have captured the moment Jordanian air defence systems intercepted a barrage of ballistic missiles fired from Iran.
Jordan says it intercepted 18 of 20 missiles, with no injuries reported. The interceptions could be seen from across the border in Syria’s Daraa. pic.twitter.com/aPgfVZjo0I
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 9, 2026
ایرانی پاسداران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ’ممنوع اور غیر محفوظ‘ علاقے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 2 امریکی جہاز اور 8 تیل بردار ٹینکر شامل ہیں۔
یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے 5 ایرانی تیل بردار ٹینکرز کو تباہ کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:طاہر اندرابی نے اقوام متحدہ میں اہم ذمہ داریاں سنبھال لیں،سفارتی اسناد پیش
امریکی سینٹرل کمانڈ نے حملوں کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے 2 مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اگر امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش جاری رکھتا ہے تو امریکا بھی ایرانی تیل بردار جہازوں کو تباہ کرتا رہے گا۔

ایران نے خلیج میں تیل کی ترسیل کے علاوہ کویت اور بحرین کی بندرگاہوں پر موجود تیل بردار جہازوں کو بھی دھمکیاں دی ہیں۔
ایک بحری سلامتی کے ذریعے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خور فکان میں ایک مائع قدرتی گیس بردار جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم یہ واضح نہیں کہ واقعے کا ذمہ دار کون تھا۔
حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں اور بدھ کی ابتدائی تجارت میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔
آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے خدشات نے عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے۔




