بحرالکاہل میں موسمیاتی رجحان اور قدرتی سسٹم ‘ایل نینو’ انتہائی شدت اختیار کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے، جس کے بعد عالمی موسمیاتی تنظیم نے دنیا بھر میں غیر معمولی موسمی حالات اور خطرے سے خبردار کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جولائی اور اگست کے وسط میں بحرالکاہل کے بعض حصوں میں سمندری درجہ حرارت معمول سے 2.2 سے 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں زیرِ سمندر درجہ حرارت معمول سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک زائد رہا۔
فروری 2027 تک خطرے کا خدشہ
عالمی موسمیاتی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ایل نینو کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا تقریباً 100 فیصد امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس قدرتی سسٹم کی شدت میں اضافے کے باعث دنیا کے مختلف حصوں اور خطوں میں شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی سمیت غیر معمولی اور تباہ کن موسمی حالات پیدا ہونے کا شدید خطرہ موجود ہے۔
ایل نینو کیا ہے اور یہ کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
ایل نینو دراصل استوائی بحرالکاہل (Equatorial Pacific) کے وسطی اور مشرقی حصوں کے سمندری پانی کی سطح کا غیر معمولی طور پر گرم ہو جانے کا ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے۔ معمول کے حالات میں مشرقی ہواائیں سمندر کے گرم پانی کو ایشیا کی طرف دھکیلتی ہیں، لیکن ایل نینو کے دوران یہ ہواائیں کمزور پڑ جاتی ہیں یا ان کی سمت بدل جاتی ہے، جس کے باعث گرم پانی مشرق یعنی امریکی ساحلوں کی جانب پھیل جاتا ہے۔ سمندری درجہ حرارت میں یہ تبدیلی بادلوں اور ہوا کی عالمی گردش کے نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ اِس کا اثر ہزاروں میل دور تک یوں پڑتا ہے کہ دنیا کے بعض خطوں میں غیر معمولی خشک سالی اور شدید ہیٹ ویوز جنم لیتی ہیں، جبکہ دوسرے علاقوں میں بے وقت اور طوفانی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دارالحکومت مظفرآباد میں چند منٹوں کی تیز بارش، شہر جل تھل، سڑکیں تالاب بن گئیں
اقوامِ متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کے مطابق یہ ریکارڈ کی گئی تاریخ کا سب سے طاقتور ایل نینو بن سکتا ہے، جس کے اثرات فروری 2027 تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔ اگرچہ ایل نینو موسمیاتی تبدیلی کا خود براہِ راست نتیجہ نہیں، مگر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ایک گرم ہوتی دنیا میں اِس کے تباہ کن اثرات پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو جاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان اور انڈیا کے لیے یہ موسمیاتی رجحان تین بڑے چیلنجز لاتا ہے:
شدید گرمی اور ہیٹ ویو: فضائی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے روزمرہ زندگی اور عوامی صحت شدید متاثر ہوتی ہے۔
مون سون پر اثر اور پانی کی قلت: بارشوں کا پیٹرن متاثر ہونے سے نہریں، بند اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر خشک ہونے لگتے ہیں۔
زراعت و خوراک کا بحران: کم بارش اور غیر معمولی گرمی سے گندم سمیت دیگر اہم فصلوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جس سے کسان کی آمدنی گِر جاتی ہے اور عام بازار میں آٹے و دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں تیزی سے بڑھ جاتی ہیں۔




