نورین عارف کا 31 سالہ سیاسی سفر، وفاداری اور جدوجہد کی داستان

کھنہ ہاؤس اسلام آباد میں کھینچی گئی ایک یادگار تصویر محض ایک تصویر نہیں، بلکہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے سیاسی سفر کے ابتدائی دنوں اور نظریاتی جدوجہد کی ایک اہم یادگار ہے۔ اس تصویر کے مرکز میں موجود محترمہ نورین عارف گزشتہ 31 سال سے آزاد کشمیر کے سیاسی میدان میں مسلسل متحرک اور فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے باقاعدہ قیام سے پہلے ہی نورین عارف اس سیاسی قافلے کا حصہ بن چکی تھیں۔ دسمبر 2010 میں جب آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا تو وہ ان مخلص، نظریاتی اور بنیاد رکھنے والے ساتھیوں میں شامل تھیں جو ابتداء ہی سے جماعت کے پرچم تلے کھڑے رہے۔

مشکل ترین حلقے سے براہِ راست عوامی سیاست

نورین عارف کی سیاست کا سب سے نمایاں اور تحسین کے قابل پہلو یہ ہے کہ انہوں نے کبھی بھی آسان سیاسی راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ انہوں نے انتہائی سخت اور سیاسی طور پر مردوں کے غلبے والے حلقہ ایک وادی کوٹلہ سے تین مرتبہ براہِ راست انتخابات میں حصہ لیا۔ اس مشکل حلقے سے ایک خاتون کا بار بار براہِ راست الیکشن لڑنا ان کے سیاسی حوصلے، عوامی جذبے اور استقامت کا بین ثبوت ہے۔

براہِ راست انتخابات کے ساتھ ساتھ وہ خصوصی نشست پر بھی متعدد مرتبہ ایوان کا حصہ رہیں اور مختلف پارلیمانی و حکومتی ذمہ داریاں انتہائی احسن طریقے سے نبھاتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مخالفین کی کروڑوں کی آفرز عوامی غيرت کے سامنے ناکام،نورین عارف کی خصوصی گفتگو

میاں نواز شریف سے وفاداری اور نظریاتی وابستگی

ان کی سیاسی شناخت کا ایک اور محکم پہلو قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف سے ان کی طویل اور غیر متزلزل وابستگی ہے۔ نورین عارف ہمیشہ سے نواز شریف کو اپنا سیاسی آئیڈیل قرار دیتی آئی ہیں اور جماعت کے قیام کے ابتدائی دنوں سے لے کر آج تک انہوں نے پارٹی قیادت، سیاسی جدوجہد اور نظریے کا ہر فورم پر کھل کر دفاع کیا ہے۔

خدمات کے اعتراف کا تقاضا

آج جب سیاسی حلقوں میں نورین عارف کو نظرانداز کیے جانے کی باتیں ہوتی ہیں تو سوال صرف ایک فرد کا نہیں رہتا، بلکہ تین دہائیوں تک سیاسی میدان میں ڈٹ کر جدوجہد کرنے والی ایک خاتون رہنما کی خدمات کا بنتا ہے۔

سیاست میں عہدے، ٹکٹ اور اقتدار آتے جاتے رہتے ہیں، مگر 31 سال کی طویل جدوجہد، مشکل حلقے سے مسلسل الیکشن لڑنے کا حوصلہ اور قیادت کے ساتھ ثابت قدمی ہی کسی سیاسی کارکن کا اصل سرمایہ ہوتی ہے۔ نورین عارف کا یہ سیاسی سفر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کی خدمات اور وفاداری کو نظرانداز کرنے کے بجائے قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔