نادرا پاک آئیڈینٹیٹی ایپ کا نیا ورژن لانچ، متعدد نئی سہولیات شامل

Pakistan SCO Summit 2026

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاک آئیڈینٹیٹی موبائل ایپ کا نیا ورژن 5.7.4 لانچ کر دیا ہے۔ اس نئے ورژن میں عوام کی سہولت کے لیے متعدد جدید اور اہم فیچرز کو شامل کیا گیا ہے۔

نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ اس نئے ورژن کا بنیادی مقصد شہریوں کے لیے شناختی خدمات کو مزید آسان، تیز تر اور ڈیجیٹل بنانا ہے۔ نئے ورژن کے ذریعے شہریوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو کئی بنیادی اور اہم سہولیات اب ان کے موبائل فونز پر ہی دستیاب ہوں گی، جن میں ایف آئی اے کو آن لائن شکایت درج کرانے، فیملی ریکارڈ کی درستگی، دستخط اپ لوڈ کرنے کا بہترین نظام اور ڈیجیٹل شناختی دستاویزات کی فراہمی جیسے فیچرز شامل ہیں۔

ایف آئی اے کو آن لائن شکایت درج کرانے کا فیچر:

نادرا کے مطابق نئے ورژن میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے متعلق ایک مخصوص اور الگ سیکشن شامل کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے مطلوبہ انتظامات مکمل ہوتے ہی شہری پاک آئیڈینٹیٹی ایپ کے ذریعے اپنی شکایات آن لائن درج کرا سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری اپنی درج شدہ شکایت کی پیش رفت کو بھی ایپ کے ذریعے ٹریک کر سکیں گے، جس سے انہیں کسی بھی شکایت کے اندراج کے لیے ایف آئی اے کے متعلقہ دفتر یا اسٹیشن جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: نادرا کاپاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے سم کارڈ جاری کرنے سے انکار

خاندانی ریکارڈ اور ایف آر سی میں درستگی کا آسان طریقہ:

فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) کے حصول اور خاندانی ریکارڈ میں نام شامل نہ ہونے کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کا حل بھی اس نئے ورژن میں فراہم کر دیا گیا ہے۔ اگر کسی متعلقہ فرد کا شناختی کارڈ پہلے سے بنا ہوا ہے تو ایپ کے ذریعے اسے فیملی ریکارڈ میں شامل کرنے کی درخواست دی جا سکتی ہے، اور ضروری معلومات و دستاویزات کی جانچ کے بعد درخواست کی منظوری پر اسے فیملی کمپوزیشن میں شامل کر کے نیا ایف آر سی حاصل کیا جا سکے گا۔ علاوہ ازیں، اگر متعلقہ شخص کا شناختی کارڈ نہیں بنا تو اس کا نام صرف اسی مخصوص ایف آر سی میں شامل کیا جا سکے گا، تاہم وہ نادرا کے مستقل خاندانی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا۔

دستخط اپ لوڈ کرنے کی سہولت اور جانشینی سرٹیفکیٹ کی تصدیق:

پاک آئیڈینٹیٹی ایپ میں دستخط اپ لوڈ کرنے کے عمل کو آسپیکٹ ریشو کراپنگ کے ذریعے بہتر بنایا گیا ہے۔ اگر دستخط تصویر کے درمیان میں نہ ہوں یا سائز چھوٹا ہو تو ایپ خودکار طور پر دستخط کو فوکس کر کے کراپ کرے گی تاکہ وہ درست طریقے سے اپ لوڈ ہو سکیں۔ اس کے علاوہ ایپ میں پہلے سے موجود جانشینی سرٹیفکیٹ یا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کی تصدیق کا فیچر بھی ہوم پیج پر دستیاب ہے، جسے چند منٹ میں مکمل کیا جا سکتا ہے اور اس کا تفصیلی طریقہ کار نادرا کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے قانونی ڈیجیٹل شناخت:

ترجمان کے مطابق بیرون ملک مقیم اور مقامی پاکستانیوں کے شناختی کارڈ، نائیکوپ یا پاکستان اوریجن کارڈ کی درخواست منظور ہونے اور دستاویز کی پرنٹنگ و تصدیق کے بعد اس کی ڈیجیٹل شکل ایپ میں فراہم کی جائے گی۔ حکومت پاکستان کے ڈیجیٹل قوانین کے تحت اس ڈیجیٹل آئی ڈی کو اصل شناختی دستاویز کے مساوی قانونی حیثیت حاصل ہے۔ نادرا نے متعلقہ اداروں کو بھی اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر شناخت کی تصدیق کے لیے اسے قبول کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: نادرا سینٹرز پر پاسپورٹ سروسز کی تجویز، شہریوں کو بڑی سہولت ملنے کا امکان

Pakistan SCO Summit 2026