میرپور کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر رکشہ ڈرائیورز نے قبضہ جما رکھا ہے، جس کے باعث نہ صرف عام شہری بلکہ ایمرجنسی میں آنے والے شدید مریض اور ایمبولینس ڈرائیورز بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
ہسپتال کے اہم ترین شعبے کے سامنے رکشوں کے اس غیر قانونی رش اور قبضے کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں آنے والی گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس سے قیمتی انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ، وزیراعظم شہباز شریف کا قبول کرنے سے انکار
ایمرجنسی گیٹ پر رکشوں کی بھرپور موجودگی اور مواصلاتی رکاوٹیں:
ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایمرجنسی بلاک کے بالکل سامنے رکشہ ڈرائیوروں کی مسلسل موجودگی اور پارکنگ کے باعث ہسپتال کی حدود میں راستہ مکمل طور پر تنگ ہو چکا ہے۔ اس بے ترتیبی کی وجہ سے ہر وقت تماشے اور بلاکنگ کی صورتحال پیدا رہتی ہے جس سے ایمرجنسی گیٹ تک رسائی انتہائی دشوار ہو گئی ہے۔
مریضوں اور ایمبولینس ڈرائیوروں کو درپیش شدید مشکلات:
اس غیر قانونی قبضے اور بدنظمی کی وجہ سے ہسپتال آنے والے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر انتہائی نگہداشت کے محتاج مریضوں اور انہیں لانے والی ایمبولینسز کے ڈرائیوروں کو سخت دشواری اٹھانی پڑ رہی ہے۔ ایمبولینس ڈرائیوروں کے لیے گاڑی کو ایمرجنسی وارڈ کے قریب تک پہنچانا ایک امتحان بن چکا ہے جس کی وجہ سے بروقت طبی امداد کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
شہریوں کی پریشانی اور متعلقہ اداروں سے نوٹس لینے کی اپیل:
اس سنگین مسئلے اور مستقل بدنظمی کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں، مریضوں کے تیمارداروں اور ایمبولینس ڈرائیوروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں نے متعلقہ انتظامی اداروں سے زور دار مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں اور ہسپتال ایمرجنسی کے باہر سے رکشہ ڈرائیوروں کا قبضہ ختم کروا کر راستہ بحال کرائیں۔




