یومِ نیلا بٹ: سردار عتیق احمد خان کا کڑا موقف، مخالفین پر شدید تنقید

دھیرکوٹ: مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے یومِ نیلا بٹ کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مسلم کانفرنس حالیہ انتخابات کا بائیکاٹ کر دیتی تو آزاد کشمیر آئندہ 20 سے 25 سالوں کے لیے الیکشن کے عمل سے محروم ہو جاتا۔

ایکشن کمیٹی اور جماعت اسلامی کی مخالفت:

سردار عتیق احمد خان نے ایکشن کمیٹی کو طنزاً مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک نمائندہ دھیرکوٹ سے منتخب ہو کر اسمبلی پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے قیامِ پاکستان کی مخالفت کی تھی اور آج بھی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر ملک میں افراتفری پھیلا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے لوگوں نے نظریاتی و تاریخی طور پر دو قومی نظریے اور قائد اعظم کی مخالفت کی، اور دھیرکوٹ کے الیکشن میں بھی مسلم کانفرنس کا راستہ روکا۔

یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں پر ن لیگ کو برتری، پیپلز پارٹی بھی دو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب

مسلم کانفرنس کے خلاف گٹھ جوڑ:

خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس کی مخالفت صرف مقامی سطح پر نہیں ہوئی بلکہ پاکستان، کشمیر، ہندوستان اور برطانیہ سے منظم انداز میں مخالفت کر کے انہیں الیکشن میں ہرایا گیا۔ دھیرکوٹ سے نو منتخب رکنِ اسمبلی کا حوالہ دیتے ہوئے سردار عتیق نے کہا کہ جب ان سے ایکشن کمیٹی کو فنڈنگ کے ثبوتوں سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فوراً ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

دست و بازو کے نشان پر تنقید:

انتخابی نشان ‘دست و بازو’ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دراصل کانگریس کا وہی ہاتھ ہے جس نے 1936 میں مسلم کانفرنس کو توڑا، پاکستان کے دو ٹکڑے کیے اور دھیرکوٹ الیکشن میں پارٹی کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، یومِ نیلا بٹ کے موقع پر جمع ہونے والا ہزاروں کا مجمع اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم کانفرنس کی نئی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔

سردار عتیق احمد خان نے واضح کیا کہ سدھنوتی اور پونچھ میں الیکشن کے بغیر بننے والی حکومت ان کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے اور وہاں کے عوام کو جمہوری و انتخابی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

انتخابات کے قانونی فریم ورک اور پارلیمانی اصولوں سے متعلق تفصیلات کے لیے الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کی آفیشل ویب سائٹ دیکھیں۔