مظفرآباد: آزاد کشمیر احتساب بیورو کے چیئرمین کا عہدہ طویل عرصے سے خالی، اصلاحات پر خدشات

مظفرآباد :آزاد جموں و کشمیر احتساب بیورو کے چیئرمین کی عدم موجودگی اور ادارے کے اختیارات میں ترمیمی پابندیوں کے باعث ریاست میں شفاف احتسابی عمل پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر احتساب بیورو کے چیئرمین کا عہدہ طویل عرصے سے خالی چلا آ رہا ہے، کیونکہ سابق چیئرمین نے 2 دسمبر 2024 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جسے منظور بھی کر لیا گیا تھا۔ تاہم اس استعفے کے بعد سے لے کر آج تک ادارے کے لیے کسی مستقل چیئرمین کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔

احتساب بیورو کے اختیارات اور قانونی ترامیم:

ایک طرف چیئرمین کا عہدہ خالی ہے تو دوسری جانب احتساب بیورو کے قانونی دائرۂ کار اور کارروائی کے طریقہ کار میں کی جانے والی ترامیم بھی کاوشوں اور بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ نقادوں کے مطابق نئی ترامیم کے تحت پانچ کروڑ روپے تک کی مبینہ بدعنوانی کے معاملات کو احتساب بیورو کے دائرۂ اختیار سے باہر نکال دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے اضافی منظوریوں کی شرط عائد کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: احتساب بیورو متحرک، محکمہ تعلیم کا اشتہاری ملزم اور ایکسین لوکل گورنمنٹ گرفتار

ان ترامیم کے باعث یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ احتسابی عمل کا دائرہ مزید محدود ہو کر رہ جائے گا۔ اس صورتحال میں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ جب ادارے کا اپنا سربراہ موجود نہ ہو اور اختیارات مختلف پابندیوں سے مشروط ہوں تو ریاست میں بلاامتیاز اور مؤثر احتساب کیونکر ممکن ہو سکے گا۔

عوامی مطالبہ اور ادارے کی خودمختاری:

ان تمام حالات کے پیش نظر مختلف عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے فوری اور سخت مطالبہ سامنے آیا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ حکومت بغیر کسی تاخیر کے چیئرمین احتساب بیورو کی فوری تعیناتی کو یقینی بنائے۔

مزید پڑھیں: عمران خان سے متعلق بین الاقوامی میڈیا نے تنہائی اور مبینہ تشدد کا بیانیہ مسترد کردیا

عوامی حلقوں کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے احتساب بیورو کو تمام تر سیاسی و انتظامی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد بنایا جائے تاکہ ادارہ ایک بااختیار اور مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکے۔